رہنمائی

عزت صرف سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے سے نہیں ملتی۔

انسانی زندگی میں عزت سب سے قیمتی چیز ہے۔ یہ وہ دولت ہے جو نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سے مانگی جا سکتی ہے۔ عزت ہمیشہ انسان کے کردار، اخلاق اور رویے سے کمائی جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس دولت، شہرت یا طاقت ہو لیکن عزت نہ ہو تو زندگی ادھوری لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر تلاش کرتے ہیں کہ عزت کمانے کے طریقے پاکستان میں کیا ہیں اور کس طرح معاشرے میں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عزت کی بنیاد سچائی اور اچھے اخلاق پر ہے۔ جو شخص وعدے پورے کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ انصاف کرتا ہے اور جھوٹ سے بچتا ہے، وہ دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ عزت کا تعلق صرف دولت یا عہدے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ایک غریب مگر نیک دل انسان کو لوگ عزت دیتے ہیں، جبکہ ایک دولت مند مگر بدکردار شخص کو معاشرہ عزت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ عزت اور کردار کی اہمیت ہمیشہ نمایاں رہتی ہے۔

جب لوگ آپ کو عزت دیتے ہیں تو آپ کے اندر ایک خاص اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہ اعتماد آپ کو مزید بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ عزت کمانے والا شخص دوسروں کی مدد کرتا ہے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ یہی رویہ اسے معاشرے میں محبوب اور قابلِ احترام بناتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ عزت اور خود اعتمادی اردو مضمون کا اصل پیغام یہی ہے کہ عزت انسان کو اندرونی سکون دیتی ہے۔

جو لوگ عزت مانگتے ہیں یا زبردستی چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں عزت دیں، وہ کبھی حقیقی عزت حاصل نہیں کر پاتے۔ مانگی ہوئی عزت صرف دکھاوے کی ہوتی ہے۔ اصل عزت وہ ہے جو دل سے دی جاتی ہے، اور دلوں کو جیتنے کے لیے کردار کی طاقت چاہیے، نہ کہ مطالبہ۔ یہی وجہ ہے کہ عزت مانگی نہیں جاتی پاکستان بلکہ کردار اور اخلاق سے کمائی جاتی ہے۔

عزت کمانے کے لیے چند اصول ضروری ہیں: ہمیشہ سچ بولیں، وعدے کی پاسداری کریں، دوسروں کی خدمت کریں، انصاف کو ترجیح دیں اور اختلاف کو برداشت کریں۔ یہ وہ اصول ہیں جو انسان کو معاشرے میں عزت دلاتے ہیں اور اسے دوسروں کے لیے مثال بناتے ہیں۔ یہی اصول عزت اور خدمت خلق پاکستان اور عزت اور سچائی کی مثالیں میں واضح کیے جاتے ہیں۔

اسلام میں عزت کو بہت اہم مقام دیا گیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی جسے چاہے عزت دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عزت اور اسلام کی تعلیمات ہمیں دوسروں کے ساتھ بھلائی اور خیرخواہی کی طرف لے جاتی ہیں۔

معاشرے میں عزت کمانے والا شخص ہمیشہ دوسروں کے لیے رہنمائی اور اعتماد کا مرکز ہوتا ہے۔ خاندان میں وہ محبت کا محور بنتا ہے، دوستوں میں سچائی کی علامت اور دفتر یا کاروبار میں ایمانداری کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جسے ہم عزت اور خاندان میں مقام، عزت اور دوستوں کے تعلقات اور عزت اور دفتر میں ایمانداری کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یاد رکھیں کہ عزت کمانے میں وقت لگتا ہے۔ یہ کوئی راتوں رات حاصل ہونے والی چیز نہیں۔ مسلسل اچھے اعمال اور کردار کے ذریعے عزت بنتی ہے۔ ایک غلط عمل یا جھوٹ انسان کی برسوں کی کمائی ہوئی عزت کو برباد کر سکتا ہے۔ اس لیے عزت کو سنبھال کر رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اسے کمانا۔ یہی وجہ ہے کہ عزت اور صبر کی اہمیت کو ہمیشہ نمایاں کیا جاتا ہے۔

نوجوان نسل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عزت صرف سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے سے نہیں ملتی۔ عزت حقیقی زندگی میں کردار اور اخلاق سے ملتی ہے۔ اگر نوجوان اپنی تعلیم، محنت اور اخلاق پر توجہ دیں تو وہ معاشرے میں عزت کما سکتے ہیں۔ یہی پیغام عزت اور نوجوان نسل پاکستان اور عزت اور نوجوانوں کی رہنمائی کے موضوعات میں دیا جاتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی کا اصل معیار عزت ہے۔ اگر آپ نے دولت کمائی لیکن عزت نہیں کمائی تو آپ کی کامیابی ادھوری ہے۔ عزت کے بغیر دولت اور شہرت بے معنی ہے۔ عزت انسان کو اندرونی سکون اور معاشرتی مقام دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزت اور حقیقی کامیابی کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ عزت مانگی نہیں جاتی بلکہ کردار، اخلاق اور محنت سے کمائی جاتی ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔