سنہ انیس سو نو میں برطانوی مصنف ای ایم فورسٹر نے ایک مختصر کہانی تحریر کی تھی جس کا عنوان تھا "دی مشین اسٹاپس”۔ اس کہانی میں ایک ایسی ہولناک اور دور اندیش پیش گوئی کی گئی تھی جس کا ادراک شاید ہم آج ایک صدی بعد کر رہے ہیں۔ فورسٹر نے ایک ایسی دنیا کا نقشہ کھینچا تھا جہاں انسان زمین کے نیچے بنے مخصوص تہہ خانوں میں رہتے ہیں اور ایک عظیم الشان "مشین” ان کی ہر ضرورت پوری کرتی ہے۔۔ کھانا، لباس، معلومات اور سماجی رابطہ سب کچھ ایک بٹن کی دوری پر ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نہ صرف جسمانی مشقت بلکہ خود سے سوچنے اور تخلیق کرنے کی جبلت بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کہانی کا عبرتناک انجام تب ہوتا ہے جب وہ مشین اچانک خراب ہو جاتی ہے اور وہ انسانی نسل، جو صدیوں سے اپنی بقا کے لیے مشین کی محتاج تھی، اسے ٹھیک کرنا تو دور کی بات، زندہ رہنے کے بنیادی طریقے بھی بھول چکی ہوتی ہے۔ یوں ایک پوری تہذیب خاموشی سے فنا ہو جاتی ہے کیونکہ وہ "علم” کھو چکی ہوتی ہے۔
آج کے دور میں جب مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر رہی ہے، تو عام طور پر یہ خوف ظاہر کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں قاتل روبوٹ یا خودکار ہتھیار انسانوں پر حملہ آور ہوں گے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ خاموش اور سفاک ہے۔ حقیقی غلامی کسی ہتھیار کے سائے میں نہیں، بلکہ ہمارے علم کھو دینے سے آئے گی۔ غلامی کا وہ دور اب قصہ پارینہ بن چکا جہاں زنجیروں کا استعمال ہوتا تھا؛ جدید دور میں غلامی کا مطلب "محتاجی” ہے۔ اگر ہم نے اپنا سب کچھ مصنوعی ذہانت اور مشینوں کے حوالے کر دیا، تو ہم بتدریج وہ بنیادی ہنر بھول جائیں گے جو ہماری بقا کے ضامن ہیں۔ اگر ہمیں یہ یاد نہ رہا کہ مٹی سے اناج کیسے اگانا ہے، اینٹ سے اینٹ جوڑ کر چھت کیسے بنانی ہے یا پیچیدہ انسانی مسائل کو بغیر کسی ڈیجیٹل کوڈنگ کے کیسے حل کرنا ہے، تو جس کے پاس بھی ان مشینوں کا کنٹرول ہوگا، وہ ہمارا مجازی خدا بن جائے گا۔
آج کل کے تعلیمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو صورتحال تشویشناک ہے۔ جب ایک طالب علم ‘چیٹ جی پی ٹی’ یا کسی اور ٹول سے سکینڈوں میں اسائنمنٹ تیار کروا لیتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ اس نے وقت بچا لیا۔ مگر درحقیقت اس نے وہ ‘ذہنی عرق ریزی’ بچا لی جو اس کے دماغ کو پختہ کرنے والی تھی۔ جب ہم تحقیق کا عمل چھوڑ دیتے ہیں، کتابوں کی ورق گردانی ترک کر دیتے ہیں اور محض پہلے سے تیار شدہ جوابات پر اکتفا کرتے ہیں، تو ہم اپنی تنقیدی سوچ کا گلا گھونٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل ہمیں ظاہری طور پر تو لائق بنا سکتا ہے، لیکن اندرونی طور پر کھوکھلا کر رہا ہے۔ یاد رکھیں، مشین آپ کو "جواب” تو دے سکتی ہے، مگر وہ "بصیرت” نہیں دے سکتی جو انسانی تجربے کی بھٹی میں پک کر حاصل ہوتی ہے۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کا جادوئی استعمال بلاشبہ ہماری زندگیوں کو ایک نئی جہت دے رہا ہے، مگر اس کا بے دریغ استعمال انسانی شعور کو منجمد کر رہا ہے۔ جب ایک پیشہ ور اپنی ای میلز اور یہاں تک کہ اپنی سوچ کے خاکے بھی الگورتھم کے حوالے کر دیتا ہے، تو وہ دراصل اپنے دماغی عضلات کو مفلوج کر رہا ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسی نسل میں تبدیل ہو رہے ہیں جو ٹیکنالوجی کے بٹن دبانے میں تو ماہر ہے مگر ان بٹنوں کے پیچھے موجود میکانزم اور حقیقت سے بالکل بے خبر ہے۔ جو قوم اپنی تاریخ اور بنیادی ہنر بھول جاتی ہے، وہ غیر محسوس طریقے سے ان قوتوں کی محتاج ہو جاتی ہے جو ان مشینوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔
اس کا عملی حل کیا ہے؟ ہمیں ‘پہلے انسان، پھر مشین’ کا اصول اپنانا ہوگا۔ جس طرح کیلکولیٹر استعمال کرنے سے پہلے پہاڑے (ٹیبلز) یاد کرنا ضروری تھا تاکہ ریاضی کی بنیاد پکی ہو، اسی طرح مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے سے پہلے موضوع پر اپنی گرفت مضبوط کرنا لازم ہے۔ ٹیکنالوجی کو اپنی منزل کی طرف رہنما ستارہ ضرور بنائیں، مگر اپنی بصارت اس کے حوالے ہرگز نہ کریں۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف معاونت کی حد تک ہونا چاہیے، نہ کہ اسے متبادل بنا لیا جائے۔
اگر ہم نے خود سے تحقیق کرنا، مشاہدہ کرنا اور تخلیق کرنا چھوڑ دیا، تو ہم مستقبل کے اس بند کمرے کے قیدی بن جائیں گے جہاں سہولیات تو بے شمار ہوں گی مگر انہیں استعمال کرنے والا انسانی شعور مر چکا ہوگا۔ حقیقی آزادی وہی ہے جہاں آپ کا علم آپ کے اپنے تجربے، مشقت اور مشاہدے سے کشید کیا گیا ہو، نہ کہ کسی ڈیجیٹل سرور سے ادھار لیا گیا ہو۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

