رہنمائی

خاندان کے اپنے لوگوں کے تلخ رویوں کو کیسے برداشت کیا جائے

خاندان وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہی لوگ ہمارے لیے سب سے زیادہ مشکل بھی بن جاتے ہیں۔ اپنے ہی گھر والوں کا تلخ رویہ برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ دل دکھتا ہے، ذہن تھک جاتا ہے، اور انسان سوچتا ہے کہ آخر میں ہی کیوں نشانہ بنتا ہوں۔ مگر زندگی کا سچ یہی ہے کہ رشتے ہمیشہ آسان نہیں ہوتے، اور کبھی کبھی ہمیں ان کی تلخیوں کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے۔

وقت کے ساتھ میں نے یہ سمجھا کہ ہر تلخ رویہ دراصل اس شخص کے اندر کے کسی درد، کسی دباؤ یا کسی الجھن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لوگ ہمیشہ وہ نہیں کہتے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ صرف اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے سخت لہجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جب ہم یہ بات سمجھ لیتے ہیں کہ مسئلہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتا، تو دل تھوڑا ہلکا ہو جاتا ہے۔

ایسے وقت میں فوری جواب دینا اکثر حالات کو مزید خراب کر دیتا ہے۔ خاموش رہ جانا، ایک لمحے کے لیے رک جانا، اور اپنے جذبات کو سنبھال لینا بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہے۔ خاموشی اکثر وہ کام کر دیتی ہے جو بحث نہیں کر سکتی۔

کبھی کبھی ہمیں اپنے دل کو سمجھانا پڑتا ہے کہ ہر بات کو ذاتی نہ لیا جائے۔ لوگ غصہ ہم پر نہیں بلکہ اپنی زندگی کے مسائل پر نکالتے ہیں۔ اگر ہم ہر بات کو اپنے خلاف سمجھیں گے تو ہم خود کو ہی تکلیف دیں گے۔ بہتر ہے کہ ہم تھوڑا سا فاصلہ رکھیں، تھوڑا سا وقت دیں، اور خود کو ذہنی طور پر محفوظ رکھیں۔

اگر کوئی رویہ بار بار تکلیف دے رہا ہو تو مناسب وقت پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ نرم لہجے میں، بغیر الزام دیے، صرف اپنے احساسات کا اظہار کرنا۔ کبھی کبھی ایک سادہ سا جملہ—“مجھے آپ کی بات سے دکھ ہوا”—بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ رشتے بات چیت سے ہی بہتر ہوتے ہیں، خاموشی سے نہیں۔

لیکن برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی حدود ختم کر دیں۔ اپنی ذہنی صحت کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار دل دکھاتا ہے تو تھوڑا سا فاصلہ رکھنا، اپنی جگہ بنانا، اور خود کو ترجیح دینا بالکل غلط نہیں۔ یہ خود غرضی نہیں بلکہ خود داری ہے۔

معاف کرنا بھی ایک بڑی طاقت ہے۔ یہ دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے دل کے سکون کے لیے ضروری ہے۔ معافی دل کو ہلکا کرتی ہے، ذہن کو پرسکون کرتی ہے، اور انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب کچھ بھول جائیں، بلکہ یہ کہ ہم دل میں کڑواہٹ نہ رکھیں۔

ایسے وقت میں اپنے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ تھوڑی سی چہل قدمی، کوئی اچھی کتاب، عبادت، یا کسی قریبی دوست سے بات—یہ سب چیزیں انسان کو اندر سے مضبوط کرتی ہیں۔ مثبت لوگوں کی صحبت بھی بہت اہم ہے۔ ایسے لوگ جو آپ کو سمجھتے ہیں، آپ کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، اور آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ اکیلے نہیں۔

آخر میں یاد رکھیں کہ اللہ پر بھروسہ رکھنا سب سے زیادہ سکون دیتا ہے۔ زندگی کے ہر امتحان میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ تلخ رویے بھی ہمیں مضبوط بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ دعا، صبر اور اللہ سے مدد مانگنے سے دل کو وہ سکون ملتا ہے جو کسی انسان کے رویے سے نہیں مل سکتا۔

خاندان کے تلخ رویوں کو برداشت کرنا آسان نہیں، لیکن ممکن ضرور ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا صبر، تھوڑی سی سمجھ داری اور تھوڑا سا دل کا حوصلہ جمع کر لیں تو نہ صرف ہم حالات کا بہتر مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنے رشتوں میں بھی نرمی اور محبت پیدا کر سکتے ہیں۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔