حوصلہ افزائی

ہمت ہی وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔

زندگی میں ہر انسان کبھی نہ کبھی ایسے موڑ پر ضرور آتا ہے جہاں سب کچھ بکھرا ہوا لگتا ہے۔ راستے دھندلے پڑ جاتے ہیں، امید کمزور ہو جاتی ہے، اور دل میں ایک عجیب سی تھکن اترنے لگتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دے، یا پھر اپنے اندر چھپی ہوئی اس خاموش طاقت کو جگا لے جسے ہم ہمت کہتے ہیں۔ یہی ہمت انسان کو دوبارہ کھڑا کرتی ہے، اسے وہ قدم اٹھانے پر مجبور کرتی ہے جس سے منزل قریب آتی ہے۔

ہمت کوئی بڑی یا ڈرامائی چیز نہیں ہوتی۔ یہ اکثر چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں چھپی ہوتی ہے۔ جیسے مشکل کے باوجود ایک قدم آگے بڑھانا، جیسے لوگوں کی باتوں کو نظرانداز کرکے اپنے خواب کے پیچھے چل پڑنا، جیسے ناکامی کے بعد خود کو سنبھال کر دوبارہ کوشش کرنا۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان خود کو پہچانتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی سوچ سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

دنیا میں جتنے بھی بڑے کام ہوئے ہیں، وہ صرف اس لیے ممکن ہوئے کہ کسی نے ہمت نہیں ہاری۔ بہت سے لوگ ذہانت میں آگے ہوتے ہیں، بہت سے لوگ وسائل رکھتے ہیں، مگر کامیابی ہمیشہ انہی کے قدم چومتی ہے جو ڈٹے رہتے ہیں۔ جو گر کر اٹھتے ہیں، جو تھک کر بھی چلتے رہتے ہیں، جو مشکل کو مشکل سمجھ کر رک نہیں جاتے بلکہ اسے چیلنج سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہی لوگ تاریخ بدلتے ہیں، یہی لوگ مثال بنتے ہیں۔

ہمت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ یہ حالات کی محتاج نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی سب کچھ ہمارے خلاف ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک چھوٹی سی روشنی باقی رہتی ہے۔ وہ روشنی کہتی ہے کہ ابھی سب ختم نہیں ہوا۔ وہی روشنی انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمت صرف مضبوط لوگوں کے پاس ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمت انسان کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ کمزور دلوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے، بس شرط یہ ہے کہ انسان خود پر یقین رکھے۔

کامیابی کا راستہ ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ اس میں موڑ بھی آتے ہیں، رکاوٹیں بھی، اور کبھی کبھی ایسے مقام بھی آتے ہیں جہاں انسان سوچتا ہے کہ شاید یہ سفر میرے بس کا نہیں۔ مگر جو لوگ ہمت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر قدم رک گئے تو منزل کھو جائے گی، مگر اگر چلتے رہے تو راستہ خود بن جائے گا۔

ہمت پیدا کرنا بھی ایک عمل ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں آتی۔ انسان جب چھوٹے چھوٹے خوف پر قابو پانا شروع کرتا ہے، جب وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، جب وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرکے ان پر کام کرتا ہے، تو اس کے اندر ہمت بڑھتی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اللہ پر بھروسہ انسان کے دل میں ایسی طاقت پیدا کرتا ہے جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی۔ جب انسان یقین کر لیتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے، تو پھر وہ کسی مشکل سے نہیں ڈرتا۔

یاد رکھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ ہمت ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر دل میں ہمت ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں، لوگ خود بدل جاتے ہیں، حالات خود آسان ہو جاتے ہیں۔ ہمت انسان کو وہ بنا دیتی ہے جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا ہو، کسی بھی خواب کو حقیقت بنانا ہو، یا کسی بھی مشکل کو شکست دینی ہو، بس ہمت نہ چھوڑیں۔ کیونکہ جس کے پاس ہمت ہے، اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔