کردار سازی

غیر ضروری مداخلت: ہمارے معاشرے کا خاموش زہر

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر شخص کو بولنے کا حق تو حاصل ہے، مگر جینے کا حق کم ہی دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر فرد خود کو منصف سمجھتا ہے، ہر آنکھ دوسرے کی زندگی پر لگی ہوتی ہے، اور ہر زبان فیصلے سنانے میں مصروف۔ کوئی کیسے جیتا ہے، کیوں جیتا ہے، کس کے ساتھ جیتا ہے—یہ سب جیسے عوامی معاملہ بن چکا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا بظاہر ایک سادہ جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک مشکل اخلاقی امتحان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ ہر انسان ہماری طرح نہیں سوچتا، ہماری طرح فیصلے نہیں کرتا، اور نہ ہی ہماری زندگی کے سانچے میں فٹ بیٹھتا ہے۔ اختلاف کو دشمنی سمجھے بغیر قبول کرنا ہی اصل برداشت ہے۔

ہم اکثر خیرخواہی کے نام پر مداخلت کرتے ہیں۔ “میں تو تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں” یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بے شمار زندگیوں کو گھٹن میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہر نصیحت ضروری نہیں ہوتی، ہر رائے قابلِ اطلاق نہیں ہوتی، اور ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی کو جینے دینے کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں۔

معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے انتخاب کو اپنا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ عورت کیا پہنے، مرد کیا کمائے، نوجوان کیسے سوچے، بزرگ کیسے جئیں. سب کے لیے غیر اعلانیہ ضابطے موجود ہیں۔ ان ضابطوں سے ہٹنے والا فوراً تنقید، طعنہ اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسروں کو جینے دینا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کنٹرول چھوڑ دینا بھی ایک اخلاقی قوت ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ خاموش رہ جانا بعض اوقات سب سے بڑی شرافت ہے۔ یہ سمجھاتا ہے کہ ہم سب مسافر ہیں، مالک کوئی نہیں۔

جب ہم دوسروں کو جینے دیتے ہیں تو دراصل ہم خود کو بھی جینے کی اجازت دیتے ہیں. خوف، موازنے اور مسلسل ججمنٹ سے آزاد ہو کر۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہے، اور انسان انسان کو انسان ہی سمجھے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بدلنے کے بجائے، ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ کیونکہ زندگی جینے کے لیے ہے، قابو میں رکھنے کے لیے نہیں۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں سب سے سستا عمل “فیصلہ سنانا” بن چکا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی زندگی پر رائے دینے اور اس کے انتخاب پر انگلی اٹھانے کا خود ساختہ حق رکھتا ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں سب سے پہلے یہ سکھاتا ہے کہ ہم بندے ہیں، مالک نہیں۔

قرآنِ مجید میں صاف اعلان ہے
“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”
(دین میں کوئی جبر نہیں) — سورۃ البقرہ: 256

جب دین جیسے بنیادی معاملے میں بھی جبر کی گنجائش نہیں، تو پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی کی ذاتی زندگی، سوچ، لباس، پیشے یا فیصلوں پر زبردستی مسلط ہونے والے؟ اسلام انسان کو اختیار دیتا ہے، سانس لینے کی گنجائش دیتا ہے، نہ کہ گھٹن۔

ہم اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دشمنی سمجھ لیتے ہیں۔ ہر مختلف سوچ ہمیں بغاوت محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ہم سے مختلف سوچتا ہے، غلط نہیں ہوتا۔ ہر وہ زندگی جو ہمارے معیار پر پوری نہیں اترتی، بے وقعت نہیں ہو جاتی۔ یہ سمجھ لینا ذہنی بلوغت اور دینی فہم دونوں کی علامت ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصلاح زبردستی سے نہیں، حکمت سے ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کی سرعام تذلیل نہیں کی، نہ ہی کسی کی نجی زندگی میں مداخلت فرمائی۔

حدیثِ مبارکہ ہے
“مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ”
(آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ غیر متعلق باتوں کو چھوڑ دے) — ترمذی

اگر ہم صرف اس ایک حدیث کو زندگی کا اصول بنا لیں تو ہمارے معاشرے کے آدھے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔ کسی کی شادی، کسی کا لباس، کسی کا طرزِ زندگی. یہ سب کب سے ہمارے دائرۂ اختیار میں شامل ہو گیا؟

قرآن ہمیں حکم دیتا ہے
“ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ”
(اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ) — سورۃ النحل: 125

ہم نے حکمت کو چھوڑ دیا اور سختی کو اختیار کر لیا۔ نصیحت کم اور طعنہ زیادہ دیتے ہیں۔ اصلاح کے بجائے تضحیک کرتے ہیں۔ اسی لیے لوگ سنورنے کے بجائے ٹوٹتے جا رہے ہیں۔

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہر انسان اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے
“وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ”
(کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) — سورۃ الانعام: 164

پھر ہم کس حق سے خود کو دوسروں کے اعمال کا حساب لینے والا بنا لیتے ہیں؟

نبی ﷺ نے فرمایا
“الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ”
(مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں) — بخاری، مسلم

ایک مہذب، اسلامی معاشرہ وہی ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام زندہ رہے، جہاں انسان انسان کو سانس لینے دے، اور جہاں دین کو کنٹرول کا ہتھیار نہیں بلکہ رحمت کا ذریعہ بنایا جائے۔دوسروں کو جینے دینا یہ نہیں کہ ہم ہر عمل سے متفق ہو جائیں، بلکہ یہ کہ کیونکہ جب ہم دوسروں کو جینے دیتے ہیں، تبھی ہم واقعی اسلام کے اخلاق کو جیتے ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے کے جنون سے نکل کر خود کو سنوارنے کی فکر کریں۔ہم خدا بننے کی کوشش چھوڑ دیں۔ اسلام ہمیں اصلاح کا حق دیتا ہے، مگر جبر کا نہیں۔ حق بات کہنے کی اجازت دیتا ہے، مگر دل توڑنے کی نہیں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی اپنی زبان سے دوسروں کو محفوظ رکھتے ہیں؟ یا ہماری باتیں، ہمارے تبصرے اور ہماری نظریں دوسروں کے لیے اذیت بن چکی ہیں؟

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

Avatar

اس تحریر کی لکھاری ، پی ایچ ڈی اسکالر ہیں اور تعلق سیالکوٹ سے ہے جس کی مٹی ادبی حوالے سے بہت زرخیز ہے۔ پیشہ ورانہ طور پر تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں مگر ساتھ ہی ایڈیٹر"نقش فریادی" ،کالم نگار ،افسانہ نگاراور مصنفہ ہیں۔اس کے علاوہ چند اخبارات اور میگزین کی شعبہ انچارج رہ چکی ہیں۔