رہنمائی

کامیابی اُن کی ہے جو اپنی حدوں کو چیلنج کرتے ہیں۔

زندگی میں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہم ایک ہی جگہ کھڑے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم میں صلاحیت ہے، ہم بہتر بن سکتے ہیں، آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی چیز ہمیں روک لیتی ہے۔ یہ رکاوٹیں اکثر باہر کی نہیں ہوتیں، بلکہ ہمارے اپنے اندر ہوتی ہیں۔ ہم خود اپنے لیے حدود بنا لیتے ہیں، اور پھر انہی حدود کو حقیقت سمجھ کر زندگی گزار دیتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ انسان کی اصل طاقت تب سامنے آتی ہے جب وہ ان حدود کو چیلنج کرتا ہے، جب وہ خود کو ثابت کرتا ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ کر سکتا ہے جتنا وہ سمجھتا تھا۔

حدود کو توڑنے کا سفر ہمیشہ ذہن سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ذہن مان لے کہ کوئی کام مشکل ہے، تو جسم بھی وہی کرے گا۔ لیکن اگر ذہن یہ سوچ لے کہ میں کر سکتا ہوں، تو راستے چاہے کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، انسان چل پڑتا ہے۔ مثبت سوچ کوئی فلسفہ نہیں، یہ ایک عملی طاقت ہے۔ جب آپ اپنے آپ سے یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ بہتر کر سکتے ہیں، تو آپ واقعی بہتر کرنے لگتے ہیں۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے، لیکن آتی ضرور ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنے کمفرٹ زون میں رہ کر خوش رہتے ہیں، کیونکہ وہاں سب کچھ آسان ہوتا ہے۔ لیکن آسانی کبھی ترقی نہیں لاتی۔ جب آپ پہلی بار کسی نئے راستے پر قدم رکھتے ہیں، تو دل میں ہلکی سی گھبراہٹ ہوتی ہے، لیکن اسی گھبراہٹ میں ایک چھپا ہوا جوش بھی ہوتا ہے۔ یہی جوش آپ کو آگے بڑھاتا ہے۔ جب آپ کوئی نیا کام کرتے ہیں، کوئی نئی مہارت سیکھتے ہیں، یا کوئی مشکل فیصلہ لیتے ہیں، تو آپ اپنے اندر ایک نئی طاقت محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان اپنی حدود کو پیچھے چھوڑنا شروع کرتا ہے۔

کامیابی کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ بغیر مقصد کے سفر کبھی منزل تک نہیں پہنچتا۔ جب آپ اپنے لیے واضح اہداف بناتے ہیں، تو آپ کی توانائی ایک سمت میں لگتی ہے۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے کیا کرنا ہے، کیسے کرنا ہے اور کب تک کرنا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اہداف بنانا بہت فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ ہر چھوٹی کامیابی آپ کو اگلے قدم کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہ چھوٹے قدم ہی بڑے خوابوں تک لے جاتے ہیں۔

خوف ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان کے ساتھ چلتی ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس نے خوف محسوس نہ کیا ہو۔ لیکن فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ خوف کے باوجود آگے بڑھتے ہیں، اور کچھ لوگ خوف کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔ ناکامی کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف، یا پھر نامعلوم راستوں کا خوف — یہ سب عام ہیں۔ لیکن جب آپ ایک بار خوف کے باوجود قدم بڑھاتے ہیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ خوف اتنا بڑا نہیں تھا جتنا آپ نے سمجھ رکھا تھا۔ یہی احساس آپ کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

حدود کو عبور کرنے میں مستقل مزاجی کا کردار بہت اہم ہے۔ ایک دن کا جوش تو ہر کسی میں ہوتا ہے، لیکن اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتے ہیں۔ چاہے رفتار کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، اگر آپ چلتے رہیں گے تو ایک دن ضرور منزل تک پہنچیں گے۔ مستقل مزاجی انسان کو نظم و ضبط سکھاتی ہے، اور یہی نظم و ضبط کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

ناکامی بھی اس سفر کا حصہ ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس نے ناکامی کا سامنا نہ کیا ہو۔ لیکن کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی کمزوری نہیں بناتے، بلکہ اسے اپنا استاد بنا لیتے ہیں۔ ہر ناکامی آپ کو کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے۔ کبھی یہ بتاتی ہے کہ آپ نے غلط راستہ چُنا، کبھی یہ بتاتی ہے کہ آپ کو مزید محنت کی ضرورت ہے، اور کبھی یہ بتاتی ہے کہ آپ کو اپنی حکمتِ عملی بدلنی چاہیے۔ جب آپ ناکامی کو قبول کرنا سیکھ لیتے ہیں، تو آپ کے لیے آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

انسان کا ماحول بھی اس کی ترقی پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں میں رہتے ہیں جو ہمیشہ منفی باتیں کرتے ہیں، تو آپ بھی انہی جیسا سوچنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو آپ کو حوصلہ دیں، آپ پر یقین کریں اور آپ کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیں، تو آپ کی سوچ بھی مثبت ہو جاتی ہے۔ مثبت ماحول انسان کی توانائی بڑھاتا ہے اور اسے کامیابی کی طرف مائل کرتا ہے۔

حدود کو عبور کرنا ایک دن کا کام نہیں، یہ ایک مسلسل سفر ہے۔ لیکن یہ سفر جتنا مشکل ہے، اتنا ہی خوبصورت بھی ہے۔ جب آپ اپنی سوچ بدلتے ہیں، اپنے خوف کا سامنا کرتے ہیں، مستقل مزاجی اختیار کرتے ہیں اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلتے ہیں، تو آپ وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں جو کبھی آپ کو ناممکن لگتا تھا۔ اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ اپنی حدود کو توڑیں گے، تو یقین کریں، آنے والا کل آپ کا ہوگا۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔