زندگی میں ہر انسان ایک ایسی جگہ پر ضرور پہنچتا ہے جہاں اسے محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، سب کچھ آرام دہ ہے، اور کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ یہ احساس وقتی طور پر اچھا لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی آسانی انسان کو روک دیتی ہے۔ جب زندگی بہت آرام دہ ہو جائے، تو انسان کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش کم ہونے لگتی ہے۔ وہ وہی کرتا رہتا ہے جو وہ پہلے سے جانتا ہے، اور یوں اس کی صلاحیتیں ایک ہی دائرے میں گھومتی رہتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسانی کبھی ترقی نہیں لاتی، اور جو لوگ زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ہی پڑتا ہے۔
انسان کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ مشکل راستوں پر قدم رکھتا ہے۔ آسان راستے ہمیشہ ہجوم سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن مشکل راستے وہ ہیں جہاں انسان خود کو پہچانتا ہے۔ جب آپ کسی چیلنج کا سامنا کرتے ہیں، تو آپ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں۔ آپ سوچنے لگتے ہیں، سیکھنے لگتے ہیں، اور اپنی حدوں کو آگے بڑھانے لگتے ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جو آپ کو بہتر بناتا ہے۔ اگر زندگی میں سب کچھ آسان ہوتا، تو نہ کوئی نیا ایجاد ہوتا، نہ کوئی نئی کامیابی، نہ کوئی نئی کہانی۔ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک مشکل سفر ہوتا ہے، اور یہی سفر انسان کو مضبوط بناتا ہے۔
آسانی کی عادت انسان کو سست بنا دیتی ہے۔ جب انسان کو معلوم ہو کہ اسے زیادہ محنت نہیں کرنی، زیادہ سوچنا نہیں، زیادہ جدوجہد نہیں کرنی، تو وہ آہستہ آہستہ رکنے لگتا ہے۔ اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے، اس کی خواہشیں مدھم پڑ جاتی ہیں، اور اس کی زندگی ایک ہی جگہ ٹھہر جاتی ہے۔ لیکن جب انسان خود کو مشکل حالات میں ڈالتا ہے، جب وہ نئے تجربات کرتا ہے، جب وہ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلتا ہے، تو وہ نہ صرف بہتر بنتا ہے بلکہ اپنی زندگی میں نئی راہیں بھی کھولتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ کر سکتا ہے جتنا وہ سمجھتا تھا۔
مشکلات انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ بناتی ہیں۔ جب آپ کسی مشکل سے گزرتے ہیں، تو آپ کے اندر برداشت پیدا ہوتی ہے۔ آپ کا ذہن مضبوط ہوتا ہے، آپ کا دل بڑا ہوتا ہے، اور آپ کی سوچ وسیع ہوتی ہے۔ آسانی میں انسان کبھی یہ سب نہیں سیکھ سکتا۔ آسانی صرف سکون دیتی ہے، لیکن مشکل حالات انسان کو وہ سبق دیتے ہیں جو زندگی بھر کام آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب لوگ ہمیشہ چیلنجز کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مشکل کے پیچھے ایک نیا موقع چھپا ہوتا ہے۔
اگر آپ اپنی زندگی میں ترقی چاہتے ہیں، تو آپ کو خود کو چیلنج کرنا ہوگا۔ آپ کو وہ کام کرنے ہوں گے جو آپ کو مشکل لگتے ہیں۔ آپ کو وہ فیصلے لینے ہوں گے جن سے آپ ڈرتے ہیں۔ آپ کو وہ راستے اختیار کرنے ہوں گے جو آسان نہیں ہوتے۔ کیونکہ آسان راستے کبھی منزل تک نہیں لے جاتے۔ منزل ہمیشہ اُن لوگوں کو ملتی ہے جو مشکل راستوں پر چلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جو لوگ آسانی چھوڑ کر جدوجہد کو گلے لگاتے ہیں، وہی آگے بڑھتے ہیں۔
کامیابی کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ اس میں موڑ بھی آتے ہیں، رکاوٹیں بھی، اور کبھی کبھی ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب انسان سوچتا ہے کہ شاید وہ غلط راستے پر ہے۔ لیکن یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان کو ثابت قدم رہنا ہوتا ہے۔ آسانی کا راستہ ہمیشہ واپس بلاتا ہے، لیکن اگر آپ نے ایک بار مشکل راستے کا انتخاب کر لیا ہے، تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ ہر قدم آپ کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے، ہر مشکل آپ کو کچھ نیا سکھا رہی ہوتی ہے، اور ہر جدوجہد آپ کو منزل کے قریب لے جا رہی ہوتی ہے۔
آسانی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ انسان کو وہیں روک دیتی ہے جہاں وہ ہے۔ لیکن زندگی کا حسن آگے بڑھنے میں ہے۔ جب آپ خود کو چیلنج کرتے ہیں، جب آپ نئے خواب دیکھتے ہیں، جب آپ نئی کوششیں کرتے ہیں، تو آپ کی زندگی میں نئی روشنی آتی ہے۔ آپ کے اندر ایک نیا جوش پیدا ہوتا ہے، ایک نئی امید جنم لیتی ہے، اور آپ خود کو پہلے سے زیادہ زندہ محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو آسانی کبھی نہیں دے سکتی۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں تبدیلی آئے، تو آپ کو آسانی چھوڑنی ہوگی۔ آپ کو خود کو مشکل راستوں پر ڈالنا ہوگا۔ آپ کو وہ کام کرنے ہوں گے جو آپ کو ڈراتے ہیں۔ کیونکہ ترقی ہمیشہ خوف کے اُس پار ہوتی ہے۔ جب آپ خوف کے باوجود قدم بڑھاتے ہیں، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کی طاقت آپ کے خیال سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی احساس آپ کو آگے بڑھنے کی ہمت دیتا ہے۔
آخر میں، یاد رکھیں کہ آسانی کبھی ترقی نہیں لاتی۔ ترقی ہمیشہ اُن لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو مشکل راستوں پر چلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جو لوگ جدوجہد سے نہیں گھبراتے، جو لوگ چیلنجز کو قبول کرتے ہیں، اور جو لوگ اپنی حدوں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی زندگی میں کچھ بڑا کرتے ہیں۔ اگر آپ آج یہ فیصلہ کر لیں کہ آپ آسانی چھوڑ کر جدوجہد کو اپنائیں گے، تو یقین کریں، آپ کی زندگی بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

