کردار سازی

ارمان ہر دل میں ہوتے ہیں۔

زندگی کے سفر میں ہم سب کے دل میں کچھ نہ کچھ خواب اور تمنائیں چھپی ہوتی ہیں۔ کبھی یہ خواب بہت بڑے ہوتے ہیں اور کبھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی صورت میں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کے دل کی کیفیت کو کوئی سمجھے، اس کے جذبات کو اہمیت دے اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں ساتھ دے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دل کی بات دل میں ہی رہ جاتی ہے کیونکہ سمجھنے والا نہیں ملتا۔

ارمان انسان کی فطرت ہیں۔ جیسے سانس لینا ضروری ہے، ویسے ہی خواب دیکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ خواب ہمیں جینے کا حوصلہ دیتے ہیں، آگے بڑھنے کی تحریک دیتے ہیں اور زندگی کو رنگین بناتے ہیں۔ اگر یہ تمنائیں پوری نہ ہوں تو دل میں ایک خلا سا رہ جاتا ہے، لیکن اگر کوئی ہمارے جذبات کو سمجھے تو ادھورے خواب بھی کم تکلیف دہ لگتے ہیں۔

محبت کے ساتھ ارمانوں کا تعلق بہت گہرا ہے۔ جب دل کسی کو چاہتا ہے تو اس کے ساتھ بے شمار تمنائیں جڑ جاتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا محبوب ہماری کیفیت کو سمجھے، ہمارے خوابوں کو حقیقت بنانے میں ساتھ دے۔ اگر محبت میں یہ سمجھ بوجھ نہ ہو تو دل کے ارمان دب جاتے ہیں اور زندگی بے رنگ محسوس ہونے لگتی ہے۔

کامیابی کی راہ میں بھی ارمان اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اپنی پہچان بنائے، دوسروں کے لیے مثال قائم کرے اور اپنی محنت کا پھل حاصل کرے۔ یہ ارمان ہی ہیں جو انسان کو جدوجہد پر آمادہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر ماحول یا لوگ اس کی تمناؤں کو نہ سمجھیں تو وہ شخص مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی محنت کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

دل کی خواہشات کو سمجھنے والا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ انسان تنہا اپنی تمناؤں کو پورا نہیں کر سکتا۔ اسے کسی ایسے ساتھی یا دوست کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے جذبات کو سمجھے، اس کی بات کو دل سے سنے اور اس کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں مدد کرے۔ جب کوئی شخص ہمارے ارمانوں کو سمجھتا ہے تو ہمیں حوصلہ ملتا ہے، اعتماد بڑھتا ہے اور زندگی آسان لگنے لگتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کے ارمانوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین بچوں کے خوابوں کو اپنی توقعات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، استاد شاگردوں کی صلاحیتوں کو اپنی سوچ کے مطابق پرکھتے ہیں اور دوست اکثر جذبات کو ہلکا لے لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل کی خواہشات دب جاتی ہیں اور انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔

جب ارمانوں کو سمجھنے والا نہ ہو تو خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ ادھورے خواب انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتے ہیں۔ وہ شخص بظاہر خوش نظر آتا ہے مگر دل میں ایک خلا باقی رہتا ہے۔ یہی خلا اکثر زندگی کو بے رنگ بنا دیتا ہے اور انسان کو تنہائی کا احساس دلاتا ہے۔

دل کی تمناؤں کو سمجھنے والا ہونا ذہنی سکون کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب کوئی ہمارے جذبات کو سمجھتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں۔ یہ احساس ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے اور زندگی کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔

ہر رشتہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے ارمانوں کو سمجھیں۔ چاہے وہ والدین اور اولاد کا رشتہ ہو، دوستوں کا تعلق ہو یا میاں بیوی کا رشتہ، سب میں یہ شرط لازمی ہے کہ ایک دوسرے کے خوابوں کو سمجھا جائے۔ اگر رشتوں میں یہ سمجھ بوجھ نہ ہو تو وہ رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں اور دلوں میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔

ادب میں بھی ارمانوں کو خاص مقام حاصل ہے۔ شاعری ہو یا افسانہ، ہر جگہ دل کی تمناؤں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ شاعر اپنے اشعار میں دل کے خواب بیان کرتا ہے اور قاری ان خوابوں کو اپنے دل کی کیفیت سمجھ کر پڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے اور انسان کو اپنے جذبات کا آئینہ دکھاتا ہے۔

نوجوان نسل کے دل میں سب سے زیادہ ارمان ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کو بدلنے کے خواب دیکھتے ہیں، اپنی پہچان بنانے کی خواہش رکھتے ہیں اور محبت میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ اگر ان کے خوابوں کو سمجھنے والا نہ ہو تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ نوجوانوں کے ارمانوں کو سمجھے اور انہیں مثبت راستہ دکھائے تاکہ وہ اپنی توانائی کو بہتر مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ارمان پورا نہیں ہوتا۔ کچھ خواب حقیقت بن جاتے ہیں اور کچھ خواب ہمیشہ دل میں ہی رہ جاتے ہیں۔ مگر اگر کوئی ہمارے جذبات کو سمجھے تو ادھورے خواب بھی ہمیں اتنے تکلیف دہ نہیں لگتے۔ یہی سمجھ بوجھ انسان کو مضبوط بناتی ہے اور اسے زندگی کے سفر میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

ارمانوں کو سمجھنے والا نہ ملے تو صبر کرنا ضروری ہے۔ صبر انسان کو مضبوط بناتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں۔ مگر پھر بھی دل یہ چاہتا ہے کہ کوئی ہو جو ہماری کیفیت کو سمجھے اور ہمارے خوابوں کو اہمیت دے۔

امید انسان کو زندہ رکھتی ہے۔ جب دل میں ارمان ہوتے ہیں تو امید بھی ساتھ ہوتی ہے کہ کبھی نہ کبھی یہ خواب پورے ہوں گے۔ اگر کوئی ہمارے ارمانوں کو سمجھے تو یہ امید اور بھی بڑھ جاتی ہے اور زندگی کو جینے کا حوصلہ ملتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ارمان ہر دل میں ہوتے ہیں مگر ان کو سمجھنے والا چاہیے ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہمارے خوابوں کو سمجھے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے، رشتے مضبوط ہو جاتے ہیں اور دل کو سکون ملتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے ارمانوں کو بھی سمجھیں اور ان کی تمناؤں کو اہمیت دیں تاکہ معاشرہ خوشحال اور محبت بھرا بن سکے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔