پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ بوجھ نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے۔ وہ نوجوان جو ابھی عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں، اپنی محدود آمدنی کے ساتھ روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء، کرایہ، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ایک عام تنخواہ دار نوجوان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نوجوانوں کو مایوس کر رہی ہے۔
کم تنخواہیں پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ زیادہ تر نوجوان نوکریاں کرتے ہیں لیکن ان کی آمدنی مہنگائی کے حساب سے ناکافی ہے۔ ایک گریجویٹ یا ماسٹرز کرنے والا نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اتنی کم تنخواہ ملتی ہے کہ وہ نہ اپنی تعلیم کا صلہ سمجھتا ہے اور نہ ہی اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پاتا ہے۔ یہی صورتحال نوجوانوں کو مایوس کر رہی ہے اور انہیں مستقبل کے بارے میں غیر یقینی سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔
نوجوانوں کی مایوسی کے کئی اسباب ہیں۔ سب سے بڑا سبب معاشی دباؤ ہے۔ جب ایک نوجوان اپنی محنت کے باوجود اپنی ضروریات پوری نہیں کر پاتا تو وہ دل برداشتہ ہو جاتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری پاکستان میں نوجوانوں کو ذہنی دباؤ اور مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔ روزگار کے محدود مواقع اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ گریجویشن اور ماسٹرز مکمل کرتے ہیں لیکن ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ جو نوجوان نوکری حاصل بھی کر لیتے ہیں، انہیں اتنی کم تنخواہ دی جاتی ہے کہ وہ اپنی تعلیم اور محنت کا صلہ نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی مایوسی کا شکار ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ضائع ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال نوجوانوں کے مسائل پاکستان کو مزید بڑھا رہی ہے۔
مہنگائی صرف مالی مشکلات ہی نہیں بلکہ سماجی مسائل بھی پیدا کر رہی ہے۔ نوجوان شادی جیسے اہم فیصلے کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ وہ مالی طور پر مستحکم نہیں ہیں۔ اسی طرح گھر کے اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے خاندانوں میں جھگڑے اور تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ یہ مسائل معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر رہے ہیں اور مہنگائی و ذہنی دباؤ پاکستان میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ذہنی صحت پر بھی اس صورتحال کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مسلسل دباؤ، پریشانی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کو ڈپریشن اور انگزائٹی کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ معاشرتی کردار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں بیرون ملک ہجرت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان میں رہیں گے تو مہنگائی اور کم تنخواہوں کے باعث کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔
اس مسئلے کو حل کرنا حکومت اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوان نسل مایوس ہو گئی تو ملک کی ترقی رک جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے، تنخواہوںیہی مہنگائی کے حل پاکستان میں ہیں جو نوجوانوں کو بہتر مستقبل دے سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم تنخواہوں نے نوجوانوں کو مایوس کر دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ اگر نوجوان نسل مایوس ہو گئی تو ملک کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ حکومت، اداروں اور معاشرے کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا تاکہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

