آج کی تیز رفتار دنیا میں، جہاں ہر کوئی اپنی زندگی کے خوبصورت لمحے سوشل میڈیا پر دکھانے میں مصروف ہے، ایک سادہ سا اصول اکثر ہماری نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے: دکھاوے کے بجائے عمل کرو یہی تمہیں آگے لے جائے گا۔ دکھاوا بظاہر خوشی دیتا ہے، لیکن اندر سے انسان کو کمزور کر دیتا ہے۔ جب ہم اپنی کامیابیوں کا شور مچانے لگتے ہیں تو ہمارا دھیان اصل کام سے ہٹ کر اس بات پر چلا جاتا ہے کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتار کم ہو جاتی ہے، فوکس بکھر جاتا ہے اور توانائی وہاں خرچ ہونے لگتی ہے جہاں اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اسی لیے کامیاب لوگ کم بولتے ہیں اور زیادہ کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دنیا باتوں سے نہیں بدلتی، عمل سے بدلتی ہے۔
عمل وہ طاقت ہے جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ خواہشیں تو سب کے پاس ہوتی ہیں، لیکن ان خواہشوں کو حقیقت بنانے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہے مستقل مزاجی اور عملی قدم۔ عمل آپ کو تجربہ دیتا ہے، آپ کو مضبوط بناتا ہے، آپ کو دوسروں سے الگ کرتا ہے اور آپ کے اندر وہ اعتماد پیدا کرتا ہے جو صرف محنت سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی بڑا کام صرف باتوں سے نہیں ہوا۔ ہر کامیاب انسان کے پیچھے برسوں کی خاموش محنت، جدوجہد اور سیکھنے کا عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے خاموشی میں کام کرنا ایک طرح سے کامیابی کا خفیہ ہتھیار ہے۔ جب آپ خاموشی سے کام کرتے ہیں تو آپ پر غیر ضروری دباؤ نہیں ہوتا، آپ دوسروں کی رائے سے آزاد رہتے ہیں، اپنی رفتار خود طے کرتے ہیں اور آپ کی کامیابی خود بولتی ہے۔
اگر آپ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اپنی زندگی میں چند سادہ عادتیں شامل کرنا ضروری ہیں۔ سب سے پہلے، اپنے منصوبے سب کو نہ بتائیں۔ ہر بات سب کے سامنے رکھنے سے نہ صرف آپ کی توانائی کم ہوتی ہے بلکہ آپ کا فوکس بھی متاثر ہوتا ہے۔ دوسرا، سوشل میڈیا پر کم وقت گزاریں، کیونکہ وہاں زیادہ تر دکھاوا ہی ہوتا ہے اور انسان اپنی زندگی کو دوسروں کی پوسٹس سے ناپنے لگتا ہے۔ تیسرا، روزانہ چھوٹے چھوٹے کام مکمل کریں، کیونکہ مستقل مزاجی ہی بڑے سفر کی بنیاد بنتی ہے۔ چوتھا، اپنی کامیابیوں کو خود کے لیے رکھیں، جب تک کوئی کام مکمل نہ ہو جائے اسے دنیا کے سامنے نہ لائیں۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنی محنت پر یقین رکھیں، کیونکہ لوگ کیا سوچتے ہیں اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں: وہ جو صرف باتیں کرتے ہیں اور وہ جو عمل کرتے ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ منصوبے بناتے ہیں، خواب دکھاتے ہیں، دعوے کرتے ہیں، لیکن عمل کم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ خاموش رہتے ہیں، محنت کرتے ہیں، سیکھتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔
عمل کرنے والے لوگ ہمیشہ آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ وہ وقت ضائع نہیں کرتے، دوسروں کی رائے سے نہیں ڈرتے، اپنی کمزوریوں پر کام کرتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور ہر دن کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا بدلتے ہیں، نئی راہیں بناتے ہیں اور مثال بن جاتے ہیں۔
چاہے آپ بزنس کر رہے ہوں، پڑھائی کر رہے ہوں یا زندگی کے کسی بھی شعبے میں آگے بڑھنا چاہتے ہوں، یہ اصول ہمیشہ کام آتا ہے۔ بزنس میں وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو خاموشی سے مارکیٹ کو سمجھتے ہیں، سیکھتے ہیں اور تجربہ کرتے ہیں۔ تعلیم میں وہ طالب علم آگے بڑھتے ہیں جو دکھاوے کے بجائے پڑھائی پر فوکس کرتے ہیں۔ زندگی میں وہ لوگ مضبوط بنتے ہیں جو اپنی شخصیت کو بہتر بنانے پر کام کرتے ہیں۔ آخر میں یاد رکھیں کہ دنیا باتوں سے نہیں بدلتی، عمل سے بدلتی ہے۔ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے دکھاوے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی محنت، کردار اور کامیابی کو خود بولنے دیں۔ اگر آپ آج سے یہ اصول اپنا لیں، تو یقین کریں آپ کی زندگی بدلنے میں دیر نہیں لگے گی، کیونکہ اصل طاقت دکھاوے میں نہیں، عمل میں ہے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

