رہنمائی

معاشرتی خرابیوں کے دور میں بچوں کو کیسے بچایا جائے؟

چھوٹے چھوٹے بچے، چار سال، تین سال، دو سال اور یہاں تک کہ ایک سال تک کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے لوگ صرف لڑکیوں کی حفاظت کا سوچتے تھے، لیکن آج کے دور میں لڑکے بھی محفوظ نہیں۔ آئے دن معصوم بچیاں دردناک طریقے سے قتل ہو رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے پورا ایک نیٹ ورک کام کر رہا ہے اور واٹس ایپ گروپس بنے ہوئے ہیں جہاں یہ غلیظ مواد دکھایا اور بیچا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹین ایجرز میں یہ جذبات پیدا ہو رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات سچ ہو، لیکن سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی گندگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ سوچ سوچ کر دماغ پاگل ہونے لگتا ہے۔
میری ایک دوست نے بتایا کہ اس نے اپنے چھت سے تین چار سال کے دو چھوٹے بچوں کو آپس میں غیر اخلاقی حرکت کرتے دیکھا۔ اتنے چھوٹے بچوں کو کیا معلوم؟ اس نے جب ان بچوں کی ماں سے بات کی تو وہ کہنے لگی: ”چھٹیوں میں میری نند آئی تھی، بچوں نے اس کے بچوں سے یہ سب سیکھا ہے۔ میں نے انہیں مارا بھی ہے لیکن یہ باز نہیں آ رہے۔“
یہ بات تمام والدین کے لیے سوچنے کی ہے کہ بچے آخر یہ سب سیکھ کہاں سے رہے ہیں؟ کیونکہ اتنے چھوٹے بچے تو موبائل بھی نہیں چلاتے، پھر بھی ان میں یہ غلط حرکات کیسے آئیں؟ یقیناً انہوں نے کسی بڑے سے سیکھا ہے۔ ایک بڑا دوسرے کو سکھاتا ہے، اور پھر وہ آگے اپنے سے چھوٹوں میں منتقل کرتا ہے، یہ سلسلہ یوں ہی چل نکلتا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ چوبیس گھنٹے بچوں کی پہرے داری ممکن نہیں۔ اگر بچوں کو باہر نہ بھی بھیجیں اور گھر میں ہی کھلائیں، تب بھی اسکول جانا، رشتہ داروں کے گھر جانا، کزنز سے ملنا اور مختلف تقاریب میں شرکت کرنا تو ہوتا ہی ہے۔ جب اردگرد کا ماحول ہی خراب ہو تو بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ والدین اپنی آنکھیں کھولیں، یہ خطرہ آپ کے اردگرد تک پہنچ چکا ہے۔ اب اس سے کیسے بچنا ہے، یہ آپ کی مسلسل کوشش اور اللہ سے دعا پر منحصر ہے۔
مجھے سب سے زیادہ اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں میرا بچہ کسی برے فرد کو اپنا دوست نہ بنا لے۔ میں نے اپنے بچوں کو باہر کوئی دوست نہیں بنانے دیا۔ ساتھ والے گھر میں کزن کے بچے ہیں اور چھت سانجھی ہے، بس ان کے ساتھ کھیلتے ہیں اور اس پر بھی میں اکثر نگرانی رکھتی ہوں۔ آج تک میں نے اپنے بچوں کو اکیلے کہیں رہنے نہیں بھیجا۔ ایک بار ایک شادی میں جانا ہوا تو وہاں دیکھا کہ دو بچے ہر وقت فون پر گانے سن رہے تھے۔ مجھے فوراً کھٹکا ہوا اور میں نے سایے کی طرح اپنے بچوں کی حفاظت کی اور ان سے دوستی نہیں کرنے دی۔ تین دن سولی پر گزار کر شکر ادا کیا کہ خیر سے گھر واپس آ گئے۔
اردگرد جو 13 سے 14 سال کے بچے آدھی آدھی رات تک موبائل چلا رہے ہیں، سنوکر کلبوں اور گیمز پوائنٹس پر بیٹھے رہتے ہیں، ان کی شکلیں دیکھ کر میں پختہ یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ بچے صحیح سمت میں نہیں جا رہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ والدین کا اس طرف دھیان کیوں نہیں؟ روزانہ کی خبریں سن کر بھی ہم میں عقل کیوں نہیں آتی؟ یہ تو وہ چند کیسز ہیں جو سامنے آتے ہیں جہاں ظلم و تشدد سے قتل ہوتا ہے، جبکہ ہزاروں بلکہ لاکھو ں کیسز ایسے ہیں جو کبھی سامنے ہی نہیں آتے، جہاں ٹین ایجرز یا بڑی عمر کے لڑکے آپس میں شرمناک تعلقات میں مبتلا ہیں، اور کالجز و یونیورسٹیز میں جو زنا بالرضا ہو رہا ہے اس کی تو حد ہی نہیں رہی۔
سب سے ضروری بات اپنے چھوٹے بچوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کریں:
  1. دوستوں پر کڑی نظر رکھیں: کوشش کریں کہ باہر دوست نہ ہی بنیں۔ اسکول میں جو بات چیت ہوتی ہے بس وہی کافی ہے، گھر آ کر بچے اپنے گھر ہی میں کھیلیں۔
  2. کھیل کے وقت نگرانی: بچے جب کھیل رہے ہوں تو ان پر مسلسل نظر رکھیں۔
  3. دوست بنیں: بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں اور عمر کے مطابق اسے صحیح اور غلط کی رہنمائی دیں تاکہ وہ برائی کو برائی سمجھے اور آپ کو بتانے میں نہ ہچکچائے۔
  4. اکیلا نہ چھوڑیں: بچے کو کبھی بھی اکیلے رہنے کے لیے، خواہ ایک دن کے لیے ہی کیوں نہ ہو، خالہ، پھوپھو، چاچو یا نانی کے گھر نہ بھیجیں۔ جب بھی جائیں ساتھ جائیں اور ساتھ واپس آئیں۔
  5. تقاریب میں ہوشیار رہیں: شادی بیاہ یا دیگر موقعوں پر اگر رات رکنا پڑے تو بچوں سے غافل نہ ہوں۔ خاص طور پر بڑے کزنز کے ساتھ نہ بچوں کو اکیلے سونے دیں اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ قربت بڑھانے دیں۔
  6. احتیاط اور شک: بطور والدین ہر شخص کو احتیاط کی نگاہ سے دیکھیں۔ شخص چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے، کسی پر بھی اندھا بھروسہ نہ کریں۔
  7. بڑے بچوں سے فاصلہ: بچوں کو گلی محلے کے بڑے بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے سختی سے منع کریں۔
  8. جذباتی ضروریات پوری کریں: صرف کھانا دے دینا، اسکول کی فیسیں بھر دینا یا کپڑے جوتے پورے کر دینا ہی کافی نہیں؛ بچوں کی جذباتی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔ ان کی تعریف کریں، فیصلوں اور مشوروں میں شامل کریں، کہانیاں سنائیں اور ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ جن بچوں کو صرف مادّی سہولیات ملتی ہیں اور والدین کا وقت نہیں ملتا، ان میں غیر اخلاقی حرکات میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
  9. دعا اور توکل: اللہ تعالی سے رو رو کر اپنے بچوں کی حفاظت کی دعا کریں۔ اپنے بچوں کو اللہ کی امان میں دیں۔ دل بہت ڈرتا ہے، لیکن اللہ پر بھروسہ اور دعا ہی سے دل کو حوصلہ ملتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین!

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

اہلیہ محمد صدیق

اس تحریر کی مصنفہ ہاؤس وائف ہیں اور اپنے امور ِ خانہ داری کے ساتھ اچھا پڑھنے اور لکھنے کا شوق بھی رکھتی ہیں ۔ مختلف تحریری مقابلہ جات میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ انعامات بھی حاصل کرتی رہتی ہیں۔