کردار سازی

ہم سب کے اندر کچھ خاص ہے

ہر انسان اپنی زندگی کا سفر اپنی فطرت، اپنے مزاج اور اپنی صلاحیتوں کے ساتھ شروع کرتا ہے۔ ہم سب کے اندر کچھ خاص ہے جو ہمیں دوسروں سے مختلف بناتا ہے۔ کوئی نرم دل اور حساس ہوتا ہے، کوئی مضبوط اور فیصلہ کن، کوئی تخلیقی سوچ رکھنے والا اور کوئی عملی اور منطقی۔ یہی فرق ہماری اصل پہچان ہے۔ جب ہم اپنی حقیقت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنے اندر کا سکون کھو دیتے ہیں۔ خوشی اور کامیابی تب ہی ملتی ہے جب ہم اپنی فطرت کو قبول کرتے ہیں اور اسی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔

زندگی کا سکون اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب ہم اپنی شخصیت کو پہچانتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔ خوش مزاج لوگ دوسروں کے لیے خوشی کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ سنجیدہ مزاج لوگ گہرائی میں سوچنے اور فیصلے کرنے میں بہتر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے مزاج کے خلاف زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو وہ ہمیشہ بے سکونی کا شکار رہے گا۔ اپنی شخصیت کے مطابق جینا ہی اصل کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو الگ الگ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ کوئی لکھنے میں ماہر ہے، کوئی بولنے میں، کوئی کاروبار میں اور کوئی خدمت خلق میں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں استعمال کریں۔ جب ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو نہ صرف خود خوش رہتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی دیکھ کر ان کی تقلید کرنے لگتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر فلاں شخص نے یہ راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوا تو ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کی فطرت اور صلاحیت مختلف ہے۔ دوسروں کی تقلید کرنے سے ہم اپنی اصل پہچان کھو دیتے ہیں اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کامیاب زندگی وہی ہے جو اپنی حقیقت کے مطابق گزاری جائے۔

جب ہم اپنی فطرت، مزاج اور صلاحیت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو ہمیں کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اندرونی سکون ملتا ہے، اعتماد بڑھتا ہے، تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں، زندگی میں خوشی اور اطمینان بڑھتا ہے اور دوسروں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مکمل بناتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ دباؤ ہوتا ہے کہ انسان کو مخصوص راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جیسے ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی کی فطرت اور صلاحیت اس شعبے کے مطابق نہ ہو تو وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔ معاشرتی دباؤ کے بجائے اپنی حقیقت کو اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

دنیا کے کئی کامیاب لوگ اپنی فطرت اور صلاحیت کے مطابق آگے بڑھے۔ کچھ نے لکھنے کو اپنا ذریعہ بنایا، کچھ نے کاروبار کو، اور کچھ نے خدمت خلق کو۔ ان سب کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انہوں نے اپنی حقیقت کو پہچانا اور اسی کے مطابق زندگی گزاری۔ یہ مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ کامیابی دوسروں کی تقلید میں نہیں بلکہ اپنی حقیقت کو اپنانے میں ہے۔

اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ انسان اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزارے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ جب ہم اپنی حقیقت کو اپناتے ہیں تو ہم اپنے خالق کے قریب ہوتے ہیں اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت، اپنے مزاج اور اپنی صلاحیت کے مطابق زندگی گزارنے میں ہی مکمل ہوتا ہے۔ دوسروں کی تقلید اور معاشرتی دباؤ وقتی خوشی دے سکتا ہے لیکن اصل سکون اپنی حقیقت کو اپنانے میں ہے۔ اپنی شخصیت کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور اپنی فطرت کے مطابق زندگی گزاریں۔ یہی کامیابی ہے، یہی خوشی ہے اور یہی سکون ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔