زندگی میں کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر بالکل خاموش لگتے ہیں۔ نہ کوئی ساتھ چلنے والا، نہ کوئی تعریف کرنے والا، نہ کوئی تالی بجانے والا۔ شروع میں یہ راستے عجیب سے لگتے ہیں، جیسے آپ کسی سنسان گلی میں اکیلے چل رہے ہوں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی راستے انسان کو اندر سے بدل دیتے ہیں۔ یہی وہ سفر ہوتے ہیں جن میں انسان اپنے آپ سے ملتا ہے، اپنی اصل طاقت کو پہچانتا ہے، اور وہ بن جاتا ہے جو شاید وہ خود بھی کبھی سوچ نہ پایا ہو۔
ہم میں سے اکثر لوگ وہی راستے چنتے ہیں جن پر سب چل رہے ہوتے ہیں، کیونکہ وہاں شور ہوتا ہے، لوگ ہوتے ہیں، اور تعریفیں بھی مل جاتی ہیں۔ مگر بڑے خواب ہمیشہ خاموش راستوں سے جنم لیتے ہیں۔ وہ راستے جن پر ابتدا میں کوئی یقین نہیں کرتا۔ وہ راستے جن پر چلنے والا شخص خود بھی کئی بار ڈگمگا جاتا ہے، مگر پھر بھی آگے بڑھتا رہتا ہے۔ ان راستوں کی خاموشی میں ایک عجیب سی طاقت ہوتی ہے۔ ایسی طاقت جو انسان کو مضبوط کرتی ہے، اسے گہرا کرتی ہے، اور اسے وہ سکھاتی ہے جو کوئی کتاب نہیں سکھا سکتی۔
ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی محنت کو سراہا جائے، اس کے کام پر تالیاں بجیں، لوگ اسے دیکھیں اور کہیں کہ "واہ، کیا بات ہے!” مگر زندگی کا سچ یہ ہے کہ سب سے اہم سفر ہمیشہ خاموشی میں ہوتے ہیں۔ کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں آپ کو صرف اپنے دل کی آواز سننی پڑتی ہے۔ کبھی کبھی یہ آواز بہت دھیمی ہوتی ہے، کبھی کبھی بے یقینی بڑھ جاتی ہے، مگر یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسان کا اصل حوصلہ سامنے آتا ہے۔ جو لوگ اس خاموشی کو برداشت کر لیتے ہیں، وہی آگے چل کر دنیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔
کامیابی کا اصل معیار یہ نہیں کہ کتنے لوگ آپ کے لیے تالیاں بجاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے کتنی بار خود کو گرنے کے بعد اٹھایا۔ دنیا ہمیشہ نتیجہ دیکھتی ہے، سفر نہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ آپ نے کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں، کتنی بار دل ٹوٹا ہے، کتنی بار ہمت جواب دے گئی ہے۔ مگر آپ پھر بھی چلتے رہے۔ یہی وہ چیز ہے جو خاموش راستوں کو قیمتی بناتی ہے۔
تنہائی اکثر لوگوں کو ڈرا دیتی ہے، مگر حقیقت میں تنہائی وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے اندر جھانکتا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو سمجھتا ہے، اور اپنے مقصد کے قریب آتا ہے۔ ہجوم میں انسان اکثر خود کو کھو دیتا ہے، مگر تنہائی میں وہ خود کو پا لیتا ہے۔ اسی لیے بڑے لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ عظمت کا سفر تنہائی میں شروع ہوتا ہے۔
دنیا کے ہر بڑے انسان نے ابتدا میں وہی راستے چنے جن پر کوئی تالی بجانے والا نہیں تھا۔ چاہے وہ کوئی شاعر ہو، کوئی سائنس دان، کوئی کاروباری شخصیت یا کوئی عام انسان جس نے اپنے حالات بدلنے کا فیصلہ کیا۔ ان سب نے وہ راستے چنے جن پر لوگ ہنستے تھے، شک کرتے تھے، یا انہیں پاگل سمجھتے تھے۔ مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنے یقین کو مضبوط رکھا، اپنے مقصد کو تھاما، اور چلتے رہے۔ آج وہی راستے دنیا کے لیے مثال بن چکے ہیں۔
زندگی میں سب سے مشکل فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ کون سا راستہ چنا جائے۔ آسان راستے ہمیشہ دل کو لبھاتے ہیں، مگر وہ انسان کو بڑا نہیں بناتے۔ مشکل راستے، خاموش راستے، تنہا راستے۔ یہی وہ راستے ہیں جو انسان کو اس کی اصل منزل تک لے جاتے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں کوئی خواب ہے جو عام راستوں سے ہٹ کر ہے، تو اس راستے پر چلنے سے نہ گھبرائیں۔ ہو سکتا ہے ابتدا میں کوئی آپ کو نہ سمجھے، کوئی آپ کی تعریف نہ کرے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو آپ کی کامیابی کی بنیاد بنے گا۔
دنیا ہمیشہ نتیجہ دیکھ کر تالیاں بجاتی ہے۔ جب تک آپ سفر میں ہوتے ہیں، جدوجہد میں ہوتے ہیں، مشکلات میں ہوتے ہیں۔ دنیا خاموش رہتی ہے۔ مگر جیسے ہی آپ اپنی منزل تک پہنچتے ہیں، وہی دنیا آپ کی تعریف کرنے لگتی ہے۔ اس لیے راستے کی خاموشی سے گھبرائیں نہیں۔ یہ خاموشی آپ کو تیار کر رہی ہوتی ہے، آپ کو مضبوط بنا رہی ہوتی ہے، آپ کو وہ بنا رہی ہوتی ہے جو آپ بننا چاہتے ہیں۔
ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ سب سے اہم راستے وہی ہوتے ہیں جن پر کوئی تالیاں نہیں بجاتا۔ کیونکہ یہ راستے انسان کو اندر سے بدل دیتے ہیں۔ یہ راستے انسان کو اس کی اصل طاقت دکھاتے ہیں، اس کے یقین کو مضبوط کرتے ہیں، اور اسے اس مقام تک لے جاتے ہیں جہاں پہنچ کر دنیا خود بخود تالیاں بجانے لگتی ہے۔ اگر آپ بھی کسی ایسے راستے پر ہیں جہاں کوئی آپ کو نہیں سراہ رہا، تو رکیں نہیں۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو آپ کی اصل منزل تک لے جائے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

