انسانی دماغ ایک نہایت پیچیدہ مگر حیرت انگیز نظام ہے۔ یہ مسلسل ہمارے رویوں، جذبات اور فیصلوں کو متاثر کرتا رہتا ہے۔ دماغ کی سب سے دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ اسے عادتیں بے حد پسند ہیں۔ چاہے وہ عادتیں فائدہ مند ہوں یا نقصان دہ، خوشی دینے والی ہوں یا تکلیف پہنچانے والی، دماغ انہیں مضبوطی سے تھام لیتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دماغ کا اصل مقصد توانائی بچانا ہے۔ جب کوئی کام بار بار کیا جاتا ہے تو دماغ اسے محفوظ کر لیتا ہے تاکہ اگلی بار اسے سوچنے یا محنت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم روزمرہ کے بہت سے کام بغیر سوچے سمجھے کر لیتے ہیں، جیسے صبح اٹھتے ہی موبائل چیک کرنا، چائے کے ساتھ بسکٹ کھانا، یا تناؤ میں فوراً غصہ کر دینا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دماغ اچھی اور بری عادت میں فرق نہیں کرتا۔ اس کے لیے صرف وہ رویہ اہم ہے جو بار بار دہرایا جائے۔ اسی لیے بعض اوقات ہم ایسی عادتوں میں پھنس جاتے ہیں جو ہمیں ذہنی، جسمانی یا جذباتی طور پر نقصان پہنچاتی ہیں، مگر پھر بھی ہم انہیں چھوڑ نہیں پاتے۔ دماغ کو واقفیت پسند ہے، چاہے وہ واقفیت تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر کوئی شخص جانتا ہے کہ ٹال مٹول اس کی زندگی کو مشکل بنا رہی ہے، لیکن پھر بھی وہ آخری لمحے تک کام نہیں کرتا۔ کوئی جانتا ہے کہ بے جا غصہ اس کے تعلقات خراب کر رہا ہے، مگر پھر بھی وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ انسان کمزور ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ پرانی عادتوں کے راستے کو محفوظ اور آسان سمجھتا ہے۔
دماغ میں موجود ریوارڈ سسٹم بھی عادتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر عادت کے پیچھے کوئی نہ کوئی وقتی فائدہ یا خوشی چھپی ہوتی ہے۔ جیسے اسکرولنگ وقتی تفریح دیتی ہے، ٹال مٹول وقتی سکون دیتا ہے، غصہ وقتی طاقت کا احساس دیتا ہے، اور زہریلے تعلقات تنہائی سے وقتی بچاؤ فراہم کرتے ہیں۔ دماغ ان وقتی انعامات کو پسند کرتا ہے، چاہے ان کے طویل مدتی نتائج کتنے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اکثر جانتے بوجھتے بھی نقصان دہ عادتوں کو دہراتا رہتا ہے۔
جب کوئی عادت بار بار دہرائی جاتی ہے تو دماغ میں اس سے متعلق نیورل پاتھ ویز مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ یوں سمجھیں جیسے بار بار چلنے سے مٹی کا راستہ پگڈنڈی بن جاتا ہے۔ پھر وہی راستہ سب سے آسان لگتا ہے۔ اسی طرح دماغ بھی پرانی عادتوں کے راستے پر چلنے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی عادتیں بنانا مشکل لگتا ہے۔ جب ہم ورزش شروع کرنا چاہتے ہیں، جلدی سونا چاہتے ہیں، کتاب پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں یا موبائل کم استعمال کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو دماغ فوراً مزاحمت کرتا ہے۔ کیونکہ نئی عادت کے لیے اسے نیا راستہ بنانا پڑتا ہے، جو محنت طلب ہے۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ دماغ لچکدار ہے۔ وہ نئی عادتیں بھی سیکھ سکتا ہے، چاہے آہستہ آہستہ ہی سہی۔ نئی عادت بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ چھوٹے قدموں سے آغاز کیا جائے۔
دماغ ایک دم بڑی تبدیلی قبول نہیں کرتا، لیکن چھوٹی تبدیلیاں اسے قابلِ قبول لگتی ہیں۔ اسی طرح ماحول بدلنا بھی عادتوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر موبائل بیڈ سے دور رکھا جائے تو صبح اٹھتے ہی اسے چیک کرنے کی عادت کم ہو سکتی ہے۔ اگر کتاب میز پر رکھی ہو تو پڑھنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اگر صحت مند اسنیکس سامنے رکھے جائیں تو غیر ضروری کھانے کی عادت کم ہو سکتی ہے۔
عادتوں کو سمجھنے کے لیے ان کے ٹرگرز کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ ہر عادت کسی نہ کسی محرک سے جڑی ہوتی ہے۔ جیسے بوریت اسکرولنگ کی طرف لے جاتی ہے، تناؤ کھانے کی طرف، اور تنہائی زہریلے تعلقات کی طرف۔ جب ہم ٹرگر پہچان لیتے ہیں تو عادت کو بدلنا آسان ہو جاتا ہے۔ دماغ کو انعام دینا بھی ضروری ہے، کیونکہ وہ انعام پر چلتا ہے۔ اگر ہم کسی مثبت عادت کے بعد خود کو چھوٹا سا انعام دیں تو دماغ اس عادت کو جلد قبول کر لیتا ہے۔
تکلیف دہ عادتوں سے نکلنے کا پہلا قدم آگاہی ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ عادت مجھے نقصان دے رہی ہے، یہ صرف دماغ کی آسانی ہے، اور میں اسے بدل سکتا ہوں، تو تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔ خود کو الزام دینے کے بجائے نرمی اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔ یہ ہماری غلطی نہیں کہ دماغ پرانی عادتوں کو پکڑ لیتا ہے، یہ اس کی فطرت ہے۔ اور فطرت کو بدلا جا سکتا ہے، اگر مستقل مزاجی اور صبر سے کام لیا جائے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

