رہنمائی

ماؤں کا طرزِ فکر اور بچوں کی صحت

مائیں ہی بچوں کی سوچ بناتی ہیں۔ جو مائیں بولتی اور سوچتی ہیں، وہی بچوں کا طرزِ زندگی بن جاتا ہے۔

جب بھی بچوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ غیر صحت بخش غذائیں کھاتے ہیں، سٹنگ جیسے مضرِ صحت مشروب سے اپنے گردے برباد کرتے ہیں، تو یہ خیال ضرور آتا ہے کہ ان کی مائیں اتنی لا علم کیوں ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ بے توجہی اور جہالت بہت خطرناک ہے۔ جن کے بچے ایسے ہیں، ان ماؤں کی اپنی حالت بھی ویسی ہی ہے۔ خود بھی وہ لیز اور ڈرنکس پی پی کر اندر سے سست اور بیمار ہو چکی ہیں۔

آج میں نے بچوں کو سکول سے پک کیا تو بچے بولے: "ماما! ہمیں چھلی لے دیں۔” لے کر دی تو کھاتے ہوئے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ "یہ صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔” یعنی ان کو ہر چیز کے بارے میں مکمل معلوم ہے۔ ہمارے گھر اس کے متعلق بچوں کے ساتھ اور آپس میں بہت بات چیت ہوتی ہے، اور بچے براہِ راست نصیحت کی بجائے سن کر اور دیکھ کر زیادہ سیکھتے ہیں۔

آج سکول کا پہلا دن تھا، کافی نئے بچے آئے ہوئے تھے۔

میں نے بھی فیس جمع کروانی تھی۔ میرے ساتھ ایک اور مدر اپنے بچے کو لے کر بیٹھی ہوئی تھیں، آج اس بچے کا پلے کلاس میں پہلا دن تھا۔ بچہ کچھ پریشان تھا تو وہ بار بار کہہ رہی تھیں: "آپ کے بیگ میں سرپرائز ہے۔” بچہ پوچھتا: "کیا سرپرائز ہے؟” تو وہ کہتیں: "لیز رکھے ہیں۔” میں نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی۔

ساتھ ہی ایک اور معاملہ بھی سامنے آیا۔ پریپ کے ایک بچے نے الٹی کر دی تھی، جسے کلاس سے نکال کر ریسیپشن پر بٹھا دیا گیا تھا۔ میں نے اس بچے پر غور کیا تو اس میں خون کی شدید کمی لگ رہی تھی؛ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور حالت کافی خراب تھی۔ اس کی ماں بھی ضرور روزانہ لیز ہی لنچ میں دیتی ہو گی۔

یہ دو مثالیں آج مجھے سوچنے پر مجبور کر گئیں۔

کبھی بچے کیک وغیرہ مانگیں تو وہ بھی زیادہ تر گھر پر ہی بنا دیتی ہوں۔ لیز کوئی حرام نہیں، کبھی کبھار کھایا جا سکتا ہے، لیکن روزانہ وہی لنچ میں دینا یا روزانہ دکان کی اشیاء کھانا صحت کو برباد کرنے اور بیماریاں خریدنے کے مترادف ہے۔

میرے بچے انڈا پراٹھا کھا کر جاتے ہیں اور لنچ میں جو بھی موسمی پھل ہو، کاٹ کر ٹفن میں لے جاتے ہیں۔ پھر گھر آ کر تازہ روٹی کھاتے ہیں۔

تمام ماؤں سے گزارش ہے کہ اتنی مہنگی فیسیں دیتی ہیں، خدارا! بچوں کی صحت کا بھی کچھ سوچیں۔ کچھ توانائی اور صحت ہوگی تو بیچارے پڑھ سکیں گے۔ دکان کی چیزوں کا لنچ بالکل بند کر دیں اور بچوں کو ہوم میڈ (گھر کی بنی) غذائیں بنا کر دیں۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

اہلیہ محمد صدیق

اس تحریر کی مصنفہ ہاؤس وائف ہیں اور اپنے امور ِ خانہ داری کے ساتھ اچھا پڑھنے اور لکھنے کا شوق بھی رکھتی ہیں ۔ مختلف تحریری مقابلہ جات میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ انعامات بھی حاصل کرتی رہتی ہیں۔