نئی نسل کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات سے خالی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ وہ بھی محبت کرتے ہیں، خوشی محسوس کرتے ہیں، دکھ سہتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے اظہار کا انداز بدل گیا ہے۔ آج کے نوجوان اپنی کیفیت کو خط یا شاعری میں نہیں لکھتے، بلکہ ایک ایموجی، ایک اسٹیکر یا سوشل میڈیا پر ایک مختصر اسٹیٹس کے ذریعے بیان کر دیتے ہیں۔
زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ رک کر سوچنے اور محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ تعلیم، کیریئر، سوشل میڈیا اور روزمرہ کی دوڑ نے انہیں لمحہ بھر کے سکون سے دور کر دیا ہے۔ وہ سب کچھ فوراً چاہتے ہیں: فوری جواب، فوری کامیابی اور فوری اظہار۔ اسی لیے ان کے جذبات اکثر سطحی لگتے ہیں، حالانکہ اندر سے وہ اتنے ہی گہرے ہیں جتنے پہلے تھے۔
پروین شاکر نے خوبصورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا: "جس چیز کو دوبارہ دیکھنے کے لئے رک جائیں وہ خوبصورتی ہے۔”
یہ جملہ آج کے دور میں اور بھی زیادہ معنی رکھتا ہے، کیونکہ نئی نسل کے پاس رکنے کا وقت نہیں۔ وہ خوبصورتی کو دیکھنے کے بجائے کیمرے میں قید کرتے ہیں اور فوراً انسٹاگرام یا ٹک ٹاک پر شیئر کر دیتے ہیں۔ لمحے کو جینے کے بجائے وہ لمحے کو ڈاکیومنٹ کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل دور نے جذباتی اظہار کو آسان بھی بنایا ہے اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ اب ہر شخص کے پاس اظہار کا پلیٹ فارم ہے۔ مشکل اس لیے کہ حقیقی جذبات اور دکھاوے میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک فلٹر شدہ تصویر یا وائرل ویڈیو جذبات کو ظاہر کرتی ہے، مگر اکثر اس میں گہرائی کم اور دکھاوا زیادہ ہوتا ہے۔
اگر آج پروین شاکر نئی نسل سے خوبصورتی کے بارے میں پوچھتیں تو شاید جواب یہ ہوتا کہ خوبصورتی وہ ہے جو انسٹاگرام پر زیادہ لائکس لے آئے یا وہ ہے جو ٹک ٹاک پر وائرل ہو جائے۔ یہ تعریفیں روایتی نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ معیار بدل گیا ہے۔
تیز رفتار زندگی اور بدلتے اظہار نے نئی نسل کو کچھ مسائل میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ جذبات کی گہرائی کم ہو گئی ہے، وقت کی کمی نے انہیں رک کر سوچنے اور محسوس کرنے سے محروم کر دیا ہے، اور مصنوعی اظہار نے حقیقی جذبات کو دھندلا دیا ہے۔
اگر نوجوان چاہتے ہیں کہ ان کے جذبات زیادہ معنی خیز ہوں تو انہیں لمحہ بھر رک کر محسوس کرنا سیکھنا ہوگا۔ جذبات کو صرف پوسٹ یا اسٹیٹس تک محدود نہ کریں بلکہ ادب اور شاعری سے تعلق قائم کریں۔ پروین شاکر، فیض احمد فیض اور جون ایلیا جیسے شعرا کے کلام سے جذباتی گہرائی حاصل کریں۔ خوبصورتی کو صرف دیکھنے کے بجائے دل سے محسوس کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نئی نسل جذبات سے خالی نہیں، بلکہ ان کے اظہار کا انداز بدل گیا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں مگر رک کر محسوس کرنے کا وقت نہیں۔ پروین شاکر کی تعریف آج بھی زندہ ہے، اور شاید یہی لمحہ ہے کہ نوجوان سمجھیں کہ خوبصورتی صرف نظر آنے والی چیز نہیں، بلکہ وہ احساس ہے جو دل کو چھو جائے اور انسان کو رکنے پر مجبور کر دے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

