کردار سازی

شادی یا سماجی نمائش؟ ایک تلخ حقیقت کی کہانی

رات کے پچھلے پہر جب شادی ہال کی آخری بتی بجھتی ہے، تو وہ چکا چوند بھی دم توڑ دیتی ہے جس کے لیے مہینوں سے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ مہنگے ترین پھول اب فرش پر کسی کوڑے کی طرح بکھرے پڑے ہیں اور وہ مہمان، جن کی خاطر کروڑوں کا زیاں کیا گیا، اپنے گھروں میں جا کر گہری نیند سو چکےہیں۔ لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا شور ہے جو کئی خاندانوں کو برسوں تک سونے نہیں دیتا۔ یہ ان قرضوں کا شور ہے جو محض چند گھنٹوں کی جھوٹی واہ واہ سمیٹنے کے لیے لیے گئے۔ یہ اس بکھرتے ہوئے سکون کی داستان ہے جسے ہم نے ‘اسٹیٹس’ کے نام پر قربان کر دیا۔ یہ اس نفسیاتی غلامی کا آغاز ہے جسے ہم نے ‘لوگ کیا کہیں گے’ کا نام دے رکھا ہے۔ اسی ایک فقرے نے نکاح جیسی سادہ اور مقدس رسم کو ایک بے رحم مارکیٹنگ تجربے میں بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں انسانی جذبے پیچھے رہ گئے ہیں اور دکھاوا جیت گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں شادی اب دو دلوں کا ملاپ کم اور ایک ‘سماجی برانڈنگ’ کا ایونٹ زیادہ بن چکی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں شادی کی کامیابی کا معیار دولہا اور دلہن کی ذہنی ہم آہنگی سے نہیں بلکہ ہال کے رقبے، کھانے کی ڈشز اور لباس کے ڈیزائنر سے لگایا جاتا ہے۔ ہر شادی کی تقریب میں دراصل تین شادیاں ہو رہی ہوتی ہیں: دو لوگوں کی، دو خاندانوں کی، اور سب سے اہم، اس ‘سماجی حیثیت’ کی نمائش جس کا اعلانِ جنگ ہر تقریب میں کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کا سارا بوجھ آخر کار ان نوجوانوں کے ناتواں کندھوں پر آ پڑتا ہے جو شاید اس نمائش کے خواہش مند بھی نہیں ہوتے، لیکن وہ ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ‘ناں’ کہنا بغاوت سمجھا جاتا ہے۔

اس نفسیاتی جبر کا آغاز بچپن سے ہی ہو جاتا ہے۔ جب ایک بچہ دیکھتا ہے کہ اس کے والدین اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر کسی دور کے رشتہ دار کی شادی پر مہنگا تحفہ دینے کو اپنی عزت کا مسئلہ بناتے ہیں، تو اس کے ذہن میں ‘قبولیت’ کا معیار بدل جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ دنیا میں آپ کی قدر آپ کے خلوص سے نہیں بلکہ آپ کے پاس موجود چیزوں کی چمک سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل پرفیکٹ ‘انسٹاگرام پکچرز’ کے پیچھے بھاگتے ہوئے ایک ایسے گہرے اضطراب کا شکار ہو رہی ہے جہاں ہر چیز کا متبادل موجود ہے، سوائے اس دلی سکون کے جو سادگی میں پوشیدہ تھا۔ ہم اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت فیصلے دکانداروں، ڈیزائنرز اور ان ‘نامعلوم لوگوں’ کے حوالے کر دیتے ہیں جن کا ہماری زندگی میں کوئی حقیقی کردار نہیں ہوتا۔

اس نمائش کا معاشی پہلو تو ایک خاموش خودکشی کے مترادف ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک اوسط شادی پر جو رقم اڑا دی جاتی ہے، وہ کسی بھی نئے جوڑے کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ کتنا بڑا تضاد ہے کہ ہم اس رقم کو چار گھنٹے کی نمائش پر لٹانے کو تو ‘عزت’ سمجھتے ہیں، لیکن اسی رقم سے کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنے یا گھر بنانے کو ‘معمولی بات’ قرار دے دیتے ہیں۔ اکثر نوجوان اپنی زندگی کے پہلے پانچ سال صرف ان قرضوں کو اتارنے میں گزار دیتے ہیں جو انہوں نے ان لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے لیے تھے جو ان کی شادی میں پائے جانے والے نمک کی مقدار پر تنقید کر کے رخصت ہوئے تھے۔ یہ معاشی تباہی صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ پورے معاشرے میں ایک ایسا مقابلہ پیدا کر دیتی ہے جہاں غریب اور متوسط طبقہ بھی اپنی سفید پوشی برقرار رکھنے کے لیے سود خوروں اور قرضوں کی دلدل میں اتر جاتا ہے۔

دوسری طرف، یہ دوڑ خواتین کے لیے ایک نئی سماجی ناانصافی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جہیز کا بوجھ، جسے ‘روایت’ کا خوبصورت لبادہ پہنا کر پیش کیا جاتا ہے، دراصل اس بیٹی کے وقار پر حملہ ہے جس کی خوشی کی خاطر یہ سب کیا جاتا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ "بیٹی کی خوشی کے لیے سب کچھ کیا ہے”، لیکن حقیقت میں وہ خوشی اس وقت مٹی میں مل جاتی ہے جب وہ بیٹی اپنے بوڑھے باپ کو قرض خواہوں کے سامنے سر جھکائے دیکھتی ہے۔ کیا کسی باپ کی بے آسائش کسی بیٹی کی سچی خوشی ہو سکتی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہم نے کبھی خود سے نہیں پوچھا۔ ہم نے اپنی ترجیحات کو اس قدر مسخ کر دیا ہے کہ اب ہمیں ایک مہنگا ‘برائیڈل شوٹ’ اس دعا سے زیادہ اہم لگتا ہے جو ایک مطمئن دل سے نکلتی ہے۔

جدید دور میں سوشل میڈیا نے اس آگ کو مزید ہوا دی ہے۔ اب ہم صرف اپنے محلے کی نظروں میں نہیں ہوتے، بلکہ ہم ایک عالمی ‘سوشل ویلیڈیشن’ کے قیدی بن چکے ہیں۔ کسی بھی شادی کی تقریب اب اس وقت تک ‘نامکمل’ سمجھی جاتی ہے جب تک اسے سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں کی مہرِ تصدیق نہ مل جائے۔ یہ ‘دکھاوے کی نفسیات’ نوجوانوں کو اس قدر مفلوج کر دیتی ہے کہ وہ اپنی حقیقی خوشی کو بھول کر صرف اس عکس کی فکر کرتے ہیں جو اسکرین پر نظر آئے گا۔ اس دوڑ میں ہم نے اس ‘جوہر’ کو کھو دیا ہے جو کسی رشتے کی بنیاد ہوتا ہے۔ یاد رکھیے، وہی رشتہ معتبر اور پائیدار ہے جو زندگی کی تنگی اور خوشحالی، دونوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھنے کا حوصلہ رکھتا ہو، نہ کہ وہ جو صرف شاہانہ تقریبات کے فوٹو سیشن تک محدود ہو۔

لیکن اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ کیا ہم اس زنجیر کو کبھی توڑ پائیں گے؟ راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ‘ذات’ سے ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اب یہ جرات کرنی ہوگی کہ وہ اس نمائشی نظام کو ‘ناں’ کہہ سکیں۔ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کرنا کہ ہم اپنی زندگی کا آغاز سادگی سے کریں گے، دراصل ایک بہت بڑی ‘کردار سازی’ ہے۔ جب آپ اپنی شادی کے بجٹ کو کسی مادی تقریب کے بجائے اپنے مستقبل کی سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں، تو آپ صرف پیسہ نہیں بچاتے، بلکہ آپ اپنی آزادی خریدتے ہیں۔ والدین سے بات کرتے وقت جذباتی ہونے کے بجائے منطق کا سہارا لینا ہوگا؛ انہیں بتانا ہوگا کہ حقیقی عزت برادری کی جھوٹی تعریفوں میں نہیں بلکہ ایک باوقار اور پرسکون زندگی میں ہے۔

ہمیں معاشرے میں ایسے نئے رواج متعارف کروانے ہوں گے جہاں ‘سادگی’ کو ‘بخالت’ نہیں بلکہ ‘دانشمندی’ سمجھا جائے۔ جب ہم ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کریں گے جو محض چند قریبی عزیزوں کی موجودگی میں سادگی سے نکاح کرتے ہیں، تو آہستہ آہستہ اس نمائشی بت کے پاؤں اکھڑنے لگیں گے۔ ہمیں اپنی سوچ کو از سرِ نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے؛ طاقت مہنگی گاڑیوں یا برانڈڈ ملبوسات میں نہیں بلکہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔ ‘لوگ’ کوئی آسمانی مخلوق نہیں، ہم خود ہی ایک دوسرے کے لیے ‘لوگ’ بن جاتے ہیں۔ جس دن ہم دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی تڑپ چھوڑ دیں گے، اسی دن ہم صحیح معنوں میں آزاد ہو جائیں گے۔

حتمی بات یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے رواج کے دھارے کے خلاف چلنے کی ہمت کی۔ آپ کے سامنے دو راستے بالکل واضح ہیں: ایک وہی پرانی پگڈنڈی ہے جس پر چلتے ہوئے ہزاروں خاندان معاشی اور ذہنی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جہاں خوشی سے زیادہ تھکاوٹ اور اطمینان سے زیادہ دکھاوا ہے۔ اور دوسرا راستہ وہ نئی شاہراہ ہے جہاں آپ کی اپنی مرضی، آپ کا اپنا خواب اور آپ کا اپنا سکون مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں شادی کسی معاشی المیے کا اعلان نہیں بلکہ ایک خوبصورت اور پرسکون سفر کا آغاز ہو۔

فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کیا آپ ان زنجیروں کو پہن کر اپنی پوری زندگی کسی اور کے اسکرپٹ پر اداکاری کرنا چاہتے ہیں، یا پھر اپنی کہانی کے خود ہیرو بننا چاہتے ہیں؟ یاد رکھیے، آپ اس دنیا میں کسی کی توقعات کا بوجھ اٹھانے نہیں آئے، بلکہ اپنا ایک ‘اصل’ وجود دریافت کرنے آئے ہیں۔ اپنی ذات کی بازیافت ہی وہ حقیقی کامیابی ہے جو آپ کو ایک مکمل انسان بناتی ہے۔ آج سے، اب سے، اس لمحے سے، اپنی خوشیوں کا دام کسی اور کے ہاتھ میں دینا بند کیجیے اور اپنی زندگی کا کنٹرول خود سنبھالیے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

Avatar

میں لاہور کا ایک 23 سالہ لکھاری ہوں۔ میرا یقین ہے کہ سچائی کو کسی آرائش یا بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میرا قلم صرف وہ حقائق بیان کرتا ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں میرا سیدھا سا اصول ہے: "گرنا کوئی انوکھی بات نہیں، لیکن اگر ہر بار اٹھنے کا حوصلہ نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے یہ کھیل ہار دیا۔" میں ان نوجوانوں کی کہانی سناتا ہوں جن کی جیبیں خالی ہیں مگر ان کے ذہنوں میں دنیا کو بدلنے کے خواب اور ارادے زندہ ہیں۔