رہنمائی

سمارٹ فون ہماری صلاحیت کیسے کھا رہا ہے

عہدِ حاضر کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ وہ آلہ، جسے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تعلیمی اور کاروباری ہتھیار ہونا چاہیے تھا، دراصل ہماری قومی پیداواری صلاحیت کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ سمارٹ فون ایک ایسا ہائپر ایکٹو دفتر ہے جو جیب میں رکھا ہوتا ہے، اور جس کی بدولت ایک نوجوان گھر بیٹھے دنیا کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ مگر افسوس، ہمارے لیے یہ دفتر کم اور فرار کا ذریعہ زیادہ بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ذاتی ناکامی نہیں بلکہ ایک قومی بحران ہے، جس کی قیمت ہماری نوجوان نسل اپنی ترقی اور ملک کی معیشت کی سست روی کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔

آج کی کامیابی کا انحصار طویل مدتی منصوبہ بندی اور غیر منقسم توجہ پر ہے۔ لیکن ہمارا سمارٹ فون ہمیں ایک ایسی نفسیاتی حالت کا عادی بنا چکا ہے، جہاں ہم ہر تیس سیکنڈ میں فوری انعام کے متلاشی رہتے ہیں۔ ایک نوٹیفیکیشن کی آواز، ایک نئی ریل، یا ایک فوری میسج کا جواب ہمارے دماغ کو ڈوپامین کی مختصر خوراک دیتے ہیں۔ یہ رویہ ہمارے اندر ایک سست ذہن پیدا کرتا ہے۔

جب دماغ کو معلوم ہو کہ وہ بغیر کسی محنت کے ہر چند لمحوں بعد خوشی حاصل کر سکتا ہے، تو وہ کسی بھی گہرے اور چیلنجنگ کام پر توجہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ یوں، جو نوجوان اپنے کیریئر کے عروج پر پہنچنے والے ہیں، وہ ایک نہ ختم ہونے والے تخلیقی جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہم نے اپنے اس آلے کی اصل قدر کو فراموش کر دیا ہے۔ ایک لکھاری کے لیے فون اس کا ریسرچ سینٹر ہے، ایک طالب علم کے لیے یونیورسٹی کی لائبریری، اور ایک کاروباری کے لیے عالمی مارکیٹ۔ مگر ہم نےسمارٹ فون کو ایک ایسا آلہ بنا دیا ہے جو ہمیں دنیا سے جوڑنے کے بجائے، ہمارے مقصد اور ڈسپلن سے کاٹ دیتا ہے۔ یہاں بنیادی مسئلہ ڈیوائس کا نہیں بلکہ فکری ڈسپلن کا ہے۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم سمارٹ فون کو استہلاک کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا تخلیق کے لیے۔

اگر فون صرف دوسروں کا مواد دیکھنے، لامتناہی اسکرولنگ اور بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کرنے کا ذریعہ ہے، تو یہ ہمارے کیریئر کا دشمن ہے۔ لیکن اگر ہم اسے لیکچر ریکارڈ کرنے، نوٹس لینے، ریسرچ کرنے اور اپنے تجزیے کو تحریر کرنے کے لیے استعمال کریں، تو یہ واقعی ہمارا سفاک دفتر ہے۔ اس کے لیے ہمیں اس ڈیجیٹل غلامی سے نکلنے کے لیے عادیاتی بغاوت کی ضرورت ہے۔

ہر دفعہ جب ہم فون اٹھائیں تو خود سے پوچھیں کہ کیا ہم اس وقت کسی مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں یا صرف فرار کا راستہ۔ تمام غیر ضروری نوٹیفیکیشنز کو فوری طور پر بند کر دیں تاکہ ہمارا دماغ باہر کی دنیا کے اشاروں پر نہ چلے بلکہ ہمارے مقصد کے اشاروں پر چلے۔ روزانہ کم از کم تیس منٹ ایسا وقت مخصوص کریں جب فون کو صرف تخلیقی کام کے لیے استعمال کیا جائے، اور باقی وقت اسے ایک سست، غیر ضروری آلے کے طور پر سمجھا جائے۔

کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ ہم کتنا جانتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی دیر تک غیر منقسم توجہ کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ایک قوم کے طور پر اپنے سب سے بڑے ہتھیار یعنی سمارٹ فون کو قابو کرنا سیکھ گئے، تو کوئی بھی بیرونی رکاوٹ ہماری ترقی کو نہیں روک پائے گی۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

Avatar

میں لاہور کا ایک 23 سالہ لکھاری ہوں۔ میرا یقین ہے کہ سچائی کو کسی آرائش یا بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میرا قلم صرف وہ حقائق بیان کرتا ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں میرا سیدھا سا اصول ہے: "گرنا کوئی انوکھی بات نہیں، لیکن اگر ہر بار اٹھنے کا حوصلہ نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے یہ کھیل ہار دیا۔" میں ان نوجوانوں کی کہانی سناتا ہوں جن کی جیبیں خالی ہیں مگر ان کے ذہنوں میں دنیا کو بدلنے کے خواب اور ارادے زندہ ہیں۔