کردار سازی

تعلیم: نوکری کا ذریعہ یا کردار سازی کا سفر؟

تعلیم ہماری زندگی کا وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ اکثر لوگ تعلیم کو صرف اچھی نوکری اور زیادہ تنخواہ کے ساتھ جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا مقصد اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ نہ صرف ہمیں ہنر اور مہارت دیتی ہے بلکہ ہمیں ایک بہتر انسان، ذمہ دار شہری اور باکردار شخصیت بنانے میں بھی مدد کرتی ہے۔

تعلیم اور نوکری کا رشتہ

یہ بات درست ہے کہ تعلیم کے بغیر اچھی نوکری حاصل کرنا مشکل ہے۔ انجینئرنگ، میڈیکل، بزنس یا آئی ٹی جیسے شعبے براہِ راست روزگار سے جڑے ہیں۔ والدین بھی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر مالی طور پر مستحکم ہوں۔ لیکن اگر ہم تعلیم کو صرف نوکری تک محدود کر دیں تو یہ اس کے اصل مقصد کو کم کر دیتا ہے۔

کردار سازی کیوں ضروری ہے؟

سوچیں، اگر ایک شخص بہت پڑھا لکھا ہو لیکن ایمانداری اور اخلاقیات سے خالی ہو تو کیا وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوگا؟ تعلیم کا اصل حسن یہ ہے کہ یہ ہمیں سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے، انصاف قائم کرنے اور ذمہ داری نبھانے کا سبق دیتی ہے۔ کردار سازی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط اور پرامن معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔

اسلام کا نقطہ نظر

اسلام میں تعلیم کو صرف دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ شخصیت اور کردار کی تعمیر کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں علم حاصل کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں بلکہ انسان کو نیک اور باکردار بنانا ہے۔

آج کے دور کے مسائل

بدقسمتی سے آج زیادہ تر لوگ تعلیم کو صرف اچھی ملازمت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں بدعنوانی، جھوٹ اور دھوکہ دہی بڑھ رہی ہے۔ جب تعلیم کردار سازی سے خالی ہو جائے تو یہ معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

کردار سازی کے عملی فائدے

کردار سازی تعلیم کو زندگی کے ہر شعبے میں خوبصورت بنا دیتی ہے۔ ایک ایماندار استاد طلبہ کو نہ صرف کتابی علم دیتا ہے بلکہ انہیں اچھے اخلاق بھی سکھاتا ہے۔ ایک دیانت دار ڈاکٹر مریض کی خدمت کو ترجیح دیتا ہے۔ ایک باکردار بزنس مین انصاف قائم کرتا ہے۔ اور ایک نیک سیاستدان عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ یہی وہ عملی مثالیں ہیں جو تعلیم کو معاشرے کے لیے روشنی کا مینار بناتی ہیں۔

تعلیم کا متوازن مقصد

اصل کامیابی تب ہے جب تعلیم ہمیں نوکری کے قابل بھی بنائے اور کردار سازی بھی کرے۔ اگر تعلیم صرف نوکری کے لیے ہو تو معاشرہ بے روح ہو جائے گا، اور اگر صرف کردار سازی پر زور دیا جائے تو معاشی ترقی رک جائے گی۔ اس لیے دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنا ہی بہترین راستہ ہے۔

تعلیم انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ یہ ہمیں روزگار کے مواقع بھی دیتی ہے اور ہمیں ایک باکردار انسان بھی بناتی ہے۔ ایک کامیاب معاشرہ وہی ہے جہاں تعلیم یافتہ افراد نہ صرف ہنر مند ہوں بلکہ اخلاقی طور پر مضبوط بھی ہوں۔ اس لیے ہمیں تعلیم کو صرف نوکری تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے کردار سازی کے ساتھ جوڑ کر ایک روشن اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا چاہیے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔