زندگی کے اس موڑ پر، جہاں ہر طرف دوستوں، محفلوں اور رشتوں کا شور ہے، اگر آپ خود کو تنہا پاتے ہیں تو یہ قطعی طور پر کوئی خامی نہیں۔ آج کے دور میں یہ دکھاوا عام ہو گیا ہے کہ کامیاب وہی ہے جس کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہو، لیکن درحقیقت یہ سوچ بہت سطحی ہے۔
معاشرے نے تنہائی کو بلاوجہ ایک کمزوری یا محرومی بنا کر پیش کیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اکیلے پن اور تنہائی میں واضح فرق ہے۔ آپ لوگوں کے ہجوم میں بھی تنہا اور خالی محسوس کر سکتے ہیں اور اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر بھی مکمل اور مطمئن ہو سکتے ہیں۔
جب آپ کے پاس رشتوں کی بھرمار نہیں ہوتی، تو آپ کے پاس دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے، اور وہ ہے آپ کا اپنا وقت۔ یہ وہ وقت ہے جب دنیا کا شور آپ کے ذہن پر حاوی نہیں ہوتا اور آپ بے حد سکون سے یہ جان سکتے ہیں کہ آپ اصل میں کون ہیں اور آپ کی زندگی کے مقاصد کیا ہیں۔
نوجوان عموماً دوسروں کو خوش کرنے، توقعات پر پورا اترنے اور رشتے نبھانے میں اتنی ذہنی اور جسمانی توانائی صرف کر دیتے ہیں کہ اپنے خوابوں کو ہی بھول جاتے ہیں۔ رشتوں کا نہ ہونا دراصل آپ کو یہ بہترین موقع دیتا ہے کہ آپ اس بچی ہوئی توانائی کو اپنی تعلیم، کیریئر اور اپنے ہنر کو نکھارنے میں صرف کریں۔
سوشل میڈیا کی چمک دمک نے بھی ہماری سوچ کو بہت حد تک محدود اور غیر حقیقی بنا دیا ہے۔ سکرین پر مسکراتے چہروں اور گروپ فوٹوز کو دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ باقی سب کی زندگیاں کامل ہیں، لیکن سکرین کے پیچھے کی حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے۔ اس لیے اپنی حقیقت کا موازنہ دوسروں کے دکھاوے سے کر کے خود کو کبھی اداس نہ کریں۔
بعض اوقات رشتے ہمیں جذباتی طور پر دوسروں کا محتاج بنا دیتے ہیں اور ہماری خوشی کا کنٹرول ان کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ اکیلے چلنا سیکھ کر آپ جذباتی طور پر خود مختار ہو جاتے ہیں۔ جب آپ اپنے اندر سے خوش رہنا سیکھ لیتے ہیں، تو آپ کو مسکرانے کے لیے کسی محفل یا کسی خاص شخص کی ضرورت نہیں رہتی۔
سچے اور مخلص رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن محض وقت گزاری کے لیے یا سوسائٹی کے دباؤ میں آکر کھوکھلے رشتے بنانا آپ کی ذہنی صحت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ مطلب پرست لوگوں کے ہجوم میں رہ کر روز ذہنی اذیت سہنے سے ہزار درجے بہتر ہے کہ انسان اکیلا، پرسکون اور اپنی ذات میں مگن رہے۔
تنہائی میں آپ کو اپنی خامیوں اور خوبیوں کا زیادہ گہرائی سے اندازہ ہوتا ہے۔ یہ خود احتسابی آپ کو ایک سلجھا ہوا اور پختہ انسان بننے میں مدد دیتی ہے، جو زندگی کی مشکلات کا زیادہ دلیری سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے عظیم مفکرین اور سائنسدانوں نے اپنی بہترین تخلیقات خاموشی اور یکسوئی میں ہی کیں۔
ذرا عظیم سائنسدان نکولا ٹیسلا کی زندگی پر غور کریں، جنہوں نے اپنا بیشتر وقت مکمل تنہائی میں گزارا۔ انہوں نے رشتوں کے ہجوم اور محفلوں کے شور سے دور رہ کر اپنی اس خاموشی کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنایا۔ تنہائی اور یکسوئی کے بطن سے انہوں نے بجلی کا وہ جدید نظام (الٹرنیٹنگ کرنٹ) ایجاد کیا جس نے پوری دنیا کو روشن کر کے رکھ دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تنہائی ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں ذہن سب سے زیادہ تیز ہوتا ہے اور عظیم خیالات جنم لیتے ہیں۔
یہ دور آپ کی زندگی کا وہ سنہری وقت ہے جس میں آپ نے اپنے مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھنی ہے۔ اگر اس وقت آپ رشتوں کی عدم موجودگی کو کمزوری سمجھ کر مایوس ہو جائیں گے، تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اس وقت کو ماتم کرنے کے بجائے اپنی ذات کی تعمیر کے لیے ایک نعمت سمجھیں۔
جب آپ خود سے دوستی کر لیتے ہیں، تو آپ کو کسی اور کی ضرورت شدت سے محسوس نہیں ہوتی۔ اپنی کمپنی کو انجوائے کرنا ایک بہت بڑا ہنر ہے۔ لوگوں کی باتوں پر دھیان دینا چھوڑ دیں؛ معاشرے کا کام ہر اس شخص پر تنقید کرنا ہے جو بھیڑ چال کا حصہ نہیں بنتا۔ اگر آپ کا راستہ الگ ہے تو اس پر فخر کریں۔
یہ اکیلا پن آپ کے اندر بے پناہ برداشت اور صبر پیدا کرتا ہے۔ یہ آپ کو سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں جب کوئی آس پاس نہ ہو، تو کیسے خود اپنا سہارا بننا ہے۔ یہ وہ ذہنی اور جذباتی طاقت ہے جو رشتوں کے ہجوم میں گھرے ہوئے کسی شخص کے پاس شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔
یاد رکھیں کہ آپ کی قدر و قیمت اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ کتنے لوگ آپ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی اصل قیمت آپ کے کردار، آپ کی سوچ اور آپ کے کام سے ہے۔ محض تنہائی کے خوف سے اپنے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہ کریں۔ جب آپ خود پر کام کریں گے تو صحیح وقت آنے پر بہترین لوگ خود آپ کی زندگی کا حصہ بن جائیں گے۔
اپنی آزادی کا جشن منائیں۔ یہ وہ آزادی ہے جو آپ کو اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنے خوابوں کو بنا کسی رکاوٹ کے پورا کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ جان لیں کہ تنہائی اور رشتوں کا نہ ہونا ہرگز کوئی کمزوری نہیں، بلکہ یہ ایک بہادر اور خود مختار انسان کی نشانی ہے۔ آپ مضبوط ہیں، آپ مکمل ہیں اور آپ کا یہ سفر شاندار ہے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

