رہنمائی

کامیاب ہونے کے باوجود نوجوان خود کو ’دھوکے باز‘ کیوں سمجھتے ہیں؟

فرض کیجیے کہ ایک نوجوان نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا ہے یا اسے کسی بڑی کمپنی میں شاندار نوکری مل گئی ہے۔ لوگ اسے مبارکباد دے رہے ہیں، مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں، لیکن وہ اندر ہی اندر ایک انجانے خوف سے کانپ رہا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ "میں اس کامیابی کے لائق نہیں۔ یہ تو بس میری قسمت اچھی تھی، یا شاید انتخاب کرنے والوں سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ کسی بھی دن لوگوں کو میری اصلیت کا پتا چل جائے گا اور میں بے نقاب ہو جاؤں گا۔”

یہ بظاہر عجیب لگنے والی سوچ کوئی وقتی وہم نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ نفسیاتی کیفیت ہے جسے علمِ نفسیات میں اپنی ہی قابلیت پر شک یا خود کو دھوکے باز سمجھنے کی کیفیت کہا جاتا ہے۔ آج کی تیز رفتار اور مسابقتی دنیا میں یہ خاموش عارضہ نوجوانوں کی خود اعتمادی کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کیفیت عام طور پر ناکام لوگوں میں نہیں، بلکہ انتہائی قابل، ذہین اور کامیاب نوجوانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ البرٹ آئن سٹائن جیسی عالمی شخصیت نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں اعتراف کیا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ ایک "غیر ارادی دھوکے باز” ہیں جن کی تحقیق کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی گئی ہے۔

اس کیفیت کا شکار نوجوان اپنی ہر کامیابی کو کسی بیرونی عنصر سے جوڑ دیتے ہیں۔ اگر وہ کوئی مشکل منصوبہ مکمل کر لیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ "میں نے محنت کی تھی” بلکہ ان کا ذہن فوراً کہے گا کہ "اس بار تکّا لگ گیا”۔ یہ سوچ انہیں اپنی کامیابیوں کا جشن منانے سے محروم رکھتی ہے۔ وہ ہمیشہ اگلی منزل کی طرف دوڑتے رہتے ہیں، صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ واقعی قابل ہیں، مگر اندرونی اطمینان انہیں کبھی حاصل نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ سائٹس نے اس کیفیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب نوجوان انٹرنیٹ پر دوسروں کی کامیابیاں اور چمکتی دمکتی زندگی دیکھتے ہیں تو انہیں اپنا آپ بونا اور ناکام محسوس ہونے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ لوگ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی زندگی کی صرف بہترین جھلکیاں دکھاتے ہیں، ناکامیاں اور جدوجہد نہیں۔

آج کے معاشرے میں غلطی کی گنجائش تقریباً ختم کر دی گئی ہے۔ نوجوانوں کو لگتا ہے کہ اگر وہ ہر کام میں سو فیصد کامل نہ ہوئے تو معاشرہ انہیں مسترد کر دے گا۔ یہی دباؤ انہیں مسلسل اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے اور ’بے نقاب‘ ہونے کے خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔

اس گرداب سے کیسے نکلا جائے؟

نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ احساسِ کمتری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعی کم تر ہیں۔ اس کیفیت سے نمٹنے کے لیے چند باتیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

حقائق کو جذبات سے الگ کریں: جب بھی یہ خیال آئے کہ "میں اس قابل نہیں” تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ نے یہ ڈگری یا نوکری کسی کی خیرات میں نہیں لی۔ آپ نے امتحان دیا، انٹرویو پاس کیا اور اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا۔

اپنے آپ سے گفتگو کا انداز بدلیں: جس طرح آپ اپنے دوست کی کامیابی پر اسے سراہتے ہیں، ویسے ہی خود سے بھی شفقت سے پیش آئیں۔ اپنی محنت کو ’قسمت‘ کا نام دے کر خود کو کم نہ کریں۔

کامیابیوں کا ریکارڈ رکھیں: اپنی چھوٹی بڑی کامیابیوں اور دوسروں کی تعریفوں کو ایک ڈائری میں لکھیں۔ شک کے لمحات میں انہیں پڑھیں تاکہ یاد رہے کہ آپ کا سفر محض اتفاق نہیں تھا۔

سب سے بڑھ کر، اس موضوع پر بات کرنا ضروری ہے۔ جب نوجوان ایک دوسرے سے اپنے خوف اور وسوسوں کا ذکر کرتے ہیں تو انہیں یہ جان کر سکون ملتا ہے کہ وہ اس جنگ میں اکیلے نہیں۔ کامیابی کا اصل مزہ تب ہے جب آپ کا دل اسے اپنا مان لے، ورنہ یہ تو ایک ایسے کرائے کے مکان جیسا احساس ہے جہاں ہر وقت بے دخلی کا ڈر لگا رہتا ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

Avatar

میں لاہور کا ایک 23 سالہ لکھاری ہوں۔ میرا یقین ہے کہ سچائی کو کسی آرائش یا بناوٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میرا قلم صرف وہ حقائق بیان کرتا ہے جو ہم روزمرہ زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں میرا سیدھا سا اصول ہے: "گرنا کوئی انوکھی بات نہیں، لیکن اگر ہر بار اٹھنے کا حوصلہ نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے یہ کھیل ہار دیا۔" میں ان نوجوانوں کی کہانی سناتا ہوں جن کی جیبیں خالی ہیں مگر ان کے ذہنوں میں دنیا کو بدلنے کے خواب اور ارادے زندہ ہیں۔