رہنمائی

جب تک یہ "ڈسٹریکشن” رہے گی، کامیابی دور ہی رہے گی

آج ذرا بیٹھ کر دل کی بات کرتے ہیں۔ ہم سب کی زندگی میں کچھ نہ کچھ خواب ہوتے ہیں، کچھ بڑے منصوبے ہوتے ہیں جنہیں ہم پورا کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی امتحانات میں ٹاپ کرنا چاہتا ہے، کسی کو نیا بزنس شروع کرنا ہے، تو کسی کو کوئی نئی مہارت سیکھنی ہے۔ لیکن اکثر کیا ہوتا ہے؟ ہم پورے جوش و خروش سے کام شروع کرتے ہیں، اور اچانک… "ٹِنگ!”… موبائل پر ایک نوٹیفکیشن آتا ہے، اور بس! ہمارا وہ سارا جوش غائب ہو جاتا ہے اور ہم اگلا ایک گھنٹہ انسٹاگرام یا ٹک ٹاک پر اسکرولنگ کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔
کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟ اگر ہاں، تو گھبرائیے مت، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ لیکن ہاں، اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ جو توجہ کا بار بار بھٹکنا ہے نا، جسے ہم ڈسٹریکشن کہتے ہیں، یہ ہماری کامیابی کا سب سے بڑا اور خاموش قاتل ہے۔

یہ ڈسٹریکشن آخر ہے کیا بلا؟

سیدھی زبان میں کہیں تو، جو چیز آپ کو آپ کے اصل کام سے روک دے، وہ ڈسٹریکشن ہے۔ اب وہ آپ کے فون کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے، دماغ میں اچانک آنے والا یہ خیال بھی ہو سکتا ہے کہ "یار، کل فلم کون سی دیکھنی ہے؟”، یا پھر کمرے میں چلنے والا ٹی وی۔
ہمارا معصوم دماغ شارٹ کٹ ڈھونڈتا ہے۔ محنت والے کام سے بھاگتا ہے اور ان چیزوں کی طرف لپکتا ہے جہاں اسے فوری اور سستی خوشی ملے۔ اب کتاب پڑھنے میں یا بزنس پلان لکھنے میں تو دماغ پر زور پڑتا ہے، لیکن کسی کی ویڈیو دیکھنے میں تو مزہ آتا ہے نا؟ بس یہی وہ جال ہے جہاں ہم پھنس جاتے ہیں۔

یہ ہماری کامیابی کو کیسے دیمک کی طرح چاٹتی ہے؟

بظاہر تو لگتا ہے کہ "یار، صرف دو منٹ ہی تو فون دیکھا ہے، کیا فرق پڑتا ہے؟”۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بہت فرق پڑتا ہے! جب ہم گہرے دھیان سے کوئی کام کر رہے ہوتے ہیں، اور بیچ میں ہمارا دھیان بٹ جائے، تو دماغ کو دوبارہ اسی پرانے والی توجہ پر آنے کے لیے کم از کم 20 سے 25 منٹ لگتے ہیں۔
اب خود سوچیے، دن میں اگر دس بار بھی آپ کی توجہ ہٹی، تو آپ کا پورا دن تو اسی چکر میں ضائع ہو گیا! نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

کام ادھورا رہ جاتا ہے۔

وقت پر چیزیں ختم نہیں ہوتیں۔

سب سے بڑھ کر، ہمارا خود پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے کہ "میں تو کچھ کر ہی نہیں سکتا”۔

صلاحیت کی کمی ہمیں ناکام نہیں کرتی، بلکہ یہ بکھری ہوئی توجہ ہمیں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

تو پھر اس قاتل سے اپنی توجہ کو کیسے بچائیں؟

دیکھیں، دنیا کو بدلنا ہمارے بس میں نہیں ہے، نوٹیفکیشنز بھی آتے رہیں گے اور دوست بھی بلاتے رہیں گے۔ لیکن ہم خود کو تو بدل سکتے ہیں نا؟ آئیے کچھ بہت ہی آسان اور دیسی طریقے اپناتے ہیں

فون کو خود سے دور کر دیں: جب بھی کوئی ضروری کام کرنے بیٹھیں، اپنے پیارے اسمارٹ فون کو سائلنٹ کریں اور اسے کسی دوسرے کمرے میں یا الماری کے اندر رکھ دیں۔ نظر سے دور، تو دماغ سے دور

چھوٹے چھوٹے وقفے لیں (پومودورو کا جادو): اپنے دماغ کو لالچ دیں۔ اسے کہیں کہ "میاں! بس 25 منٹ دل لگا کر کام کر لو، پھر تمہیں 5 منٹ کا بریک ملے گا اور تم جو مرضی کرنا”۔ یہ طریقہ واقعی جادو کی طرح کام کرتا ہے۔

اپنے دن کا ایک مقصد رکھیں: صبح اٹھتے ہی صرف دو یا تین بڑے کام سوچ لیں جو آپ نے ہر حال میں کرنے ہیں۔ جب سامنے لسٹ ہوگی، تو ادھر ادھر بھٹکنے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔

تھوڑا سا "نا” کہنا سیکھیں: اگر کوئی دوست ایسے وقت پر گپ شپ کے لیے بلائے جب آپ کا پڑھنے یا کام کرنے کا وقت ہو، تو پیار سے کہہ دیں، "یار، ابھی تھوڑا مصروف ہوں، شام کو بات کرتے ہیں”۔ اپنی ترجیحات کو خود عزت دیں، دنیا خود بخود دینے لگے گی۔

چلتے چلتے ایک آخری بات

کامیابی کوئی جادوئی چراغ نہیں ہے جو راتوں رات مل جائے۔ یہ آپ کے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں کا نام ہے۔ دنیا کے جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں، ان کے پاس بھی دن میں 24 گھنٹے ہی ہوتے ہیں اور انٹرنیٹ ان کے پاس بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ
وہ اپنے وقت اور توجہ کی حفاظت کسی قیمتی خزانے کی طرح کرتے ہیں۔
آپ کی توجہ آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اسے فضول چیزوں پر لٹانا بند کریں۔ آج ہی سے ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں، کسی ایک ڈسٹریکشن کو اپنی زندگی سے کم کریں، اور پھر دیکھیں کہ کامیابی کیسے آپ کے قدم چومتی ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔