رہنمائی

کم پیسوں میں بھی سکون اور برکت کیسے حاصل کی جائے؟

کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا ہے کہ مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ہاتھ میں آئے، اور پندرہ تاریخ تک پہنچتے پہنچتے بٹوا خالی ہو جائے؟ پھر انسان سوچتا ہے، "یار! اتنی محنت بھی کرتا ہوں، پیسے بھی کماتا ہوں، تو پھر یہ برکت کہاں چلی جاتی ہے؟ سکون کیوں نہیں ملتا؟”

آج کل کے دور میں ہم نے ایک بہت بڑی غلط فہمی پال لی ہے کہ "سکون” صرف ڈھیر سارے پیسوں یا بینک بیلنس سے ہی خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ سکون کا تعلق پیسوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ ہم ان پیسوں کو استعمال کیسے کرتے ہیں اور ہمارا طرزِ فکر کیا ہے۔

اگر آپ بھی کم آمدنی یا مہنگائی کے اس دور میں ذہنی سکون اور اپنے رزق میں برکت چاہتے ہیں، تو چلیے آج چند ایسی چھوٹی اور عملی باتوں پر بات کرتے ہیں جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہیں۔

برکت کا سب سے بڑا راز

ہم اکثر ان چیزوں کا روونا روتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہیں، اور ان نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب آپ کے پاس جو ہے، آپ اس پر دل سے شکر ادا کرتے ہیں، تو قدرت آپ کے رزق کے دروازے کھول دیتی ہے۔ صبح اٹھ کر بس ایک بار دل سے کہیے، "یا رب! تیرا شکر ہے کہ میرے پاس چھت ہے اور آج کا کھانا موجود ہے۔” یقین کیجیے، یہ احساس ہی دل کو سکون سے بھر دیتا ہے۔

نمائش اور مقابلے بازی سے دوری

آج کل ہمارا آدھا پیسہ (اور پورا سکون) دوسروں کو دکھانے میں ضائع ہو جاتا ہے۔ "فلاں نے نیا فون لے لیا، مجھے بھی لینا ہے”، "کزن کی شادی پر نیا مہنگا سوٹ پہننا ہے تاکہ کوئی کم نہ سمجھے”۔ یاد رکھیے، لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے قرض لے کر یا اپنی چادر سے باہر نکل کر خرچ کرنا آپ سے راتوں کی نیند چھین لیتا ہے۔ اپنی آمدنی کے مطابق جینا سیکھیں، سادگی کو اپنائیں، لوگوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں، سکون خود بخود آ جائے گا۔

دسترخوان کو بڑا کریں (سخاوت)

آپ سوچیں گے کہ "پہلے ہی پیسے کم ہیں، تو میں دوسروں پر کیسے خرچ کروں؟” لیکن برکت کا قانون دنیا کے قانون سے بالکل مختلف ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ دینے سے مال کم ہوتا ہے، جبکہ ایمان اور قدرت کا قانون کہتا ہے کہ دینے سے مال بڑھتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ لاکھوں روپے بانٹیں۔ اپنی کم آمدنی میں سے بھی کسی ضرورت مند کو ایک وقت کا کھانا کھلا دینا، یا کسی پرندے کے لیے چھت پر دانہ پانی رکھ دینا بھی آپ کے مال میں وہ برکت لاتا ہے جس کا آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

اپنی ترجیحات درست کریں 

بازار جاتے وقت خود سے ایک سوال ضرور پوچھیں: "کیا یہ چیز میری ضرورت ہے یا صرف میری خواہش ہے؟” اگر وہ صرف ایک عارضی خواہش ہے تو اسے کچھ وقت کے لیے ٹال دیں۔ جب آپ بجٹ بنا کر چلتے ہیں اور فضول خرچی سے بچتے ہیں، تو مہینے کے آخر میں آپ پر ذہنی دباؤ نہیں ہوتا۔ ادھار اور کریڈٹ کارڈز کی دلدل سے جتنا دور رہیں گے، زندگی اتنی ہی پرسکون رہے گی۔

پیسہ زندگی گزارنے کے لیے ایک ضرورت ضرور ہے، لیکن یہ زندگی کا مقصد نہیں ہے۔ سکون مارکیٹ میں بکنے والی کوئی چیز نہیں، یہ آپ کے اندر کا ایک احساس ہے۔ جب نیت صاف ہو، محنت حلال ہو، اور دل میں قناعت (جو ملا اس پر راضی ہونا) ہو، تو پھر چند ہزار روپوں میں بھی وہ سکون اور برکت ملتی ہے جو شاید کروڑوں کمانے والوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔