رہنمائی

دل کا خالی پن شور میں بھی نہیں بھرتا

دل کا خالی پن ایک عجیب سا احساس ہے۔ یہ اس وقت بھی ساتھ رہتا ہے جب انسان ہنستا ہے، باتیں کرتا ہے، لوگوں میں گھرا ہوتا ہے، مگر اندر کہیں ایک خاموش سا خلا موجود رہتا ہے۔ یہ خلا شور سے نہیں ڈرتا۔ یہ بھیڑ میں بھی قائم رہتا ہے اور تنہائی میں بھی۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جیسے دل کے اندر کوئی ایسی جگہ ہے جو چاہ کر بھی نہیں بھرتی، چاہے باہر کی دنیا کتنی ہی رنگین کیوں نہ ہو۔

انسان اکثر سمجھتا ہے کہ مصروف رہنے سے، لوگوں میں رہنے سے یا مسلسل سرگرمیوں میں ڈوب جانے سے شاید یہ خالی پن کم ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شور صرف باہر کی خاموشی توڑتا ہے، اندر کی نہیں۔ دل کو وہ لمس چاہیے جو روح کو چھو لے، وہ بات چاہیے جو دل میں اتر جائے، وہ احساس چاہیے جو انسان کو اپنے ہونے کا یقین دلائے۔ جب یہ چیزیں نہ ہوں تو شور بھی بے معنی لگتا ہے اور بھیڑ بھی تنہائی جیسی محسوس ہوتی ہے۔

کبھی کبھی یہ خلا جذباتی تعلق کی کمی سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کوئی اسے سمجھے، اس کی بات سنے، اس کے احساسات کو محسوس کرے۔ جب یہ تعلق کمزور پڑ جائے یا ٹوٹ جائے تو دل میں ایک ایسی خاموش اداسی بیٹھ جاتی ہے جو کسی بھی مصروفیت سے نہیں جاتی۔ لوگ ساتھ ہوتے ہیں مگر دل پھر بھی اکیلا رہتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان خود کو بھیڑ میں بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔

بعض اوقات یہ خالی پن دوسروں کی وجہ سے نہیں بلکہ خود اپنی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہم اپنی خواہشات کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں، اپنے دل کی آواز کو دبائے رکھتے ہیں، اپنی ضروریات کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ بے توجہی دل میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیتی ہے جو انسان کو خود سے بھی دور کر دیتی ہے۔ خود سے دوری انسان کو سب سے زیادہ تنہا کر دیتی ہے، کیونکہ جب انسان خود کو کھو دے تو دنیا کی کوئی چیز اسے مکمل نہیں کر سکتی۔

زندگی کا مقصد نہ ہونا بھی دل کے خالی پن کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب انسان کے پاس کوئی سمت نہ ہو تو زندگی بے رنگ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کامیابیاں بھی بے معنی لگتی ہیں اور خوشیاں بھی ادھوری۔

مقصد انسان کو جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ جب یہ نہ ہو تو دل میں بے چینی بڑھتی جاتی ہے اور انسان خود کو ایک ایسے خلا میں پھنسا ہوا محسوس کرتا ہے جس سے نکلنے کا راستہ نظر نہیں آتا۔

دل کے اس خلا کو بھرنے کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے آپ سے جڑنا پڑتا ہے۔ خود شناسی دل کی گہرائیوں تک پہنچنے کا پہلا قدم ہے۔ جب انسان اپنے دل کی بات سنتا ہے تو اسے سمجھ آتا ہے کہ اسے اصل میں کس چیز کی کمی ہے۔ اسی طرح معنوی تعلقات دل کو وہ گرمی دیتے ہیں جو شور نہیں دے سکتا۔ ایسے لوگ جو آپ کو سمجھتے ہوں، آپ کی بات سنیں اور آپ کی موجودگی کو اہمیت دیں، وہ دل کے خلا کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

روحانی سکون بھی دل کے خالی پن کا ایک اہم علاج ہے۔ روحانی سکون عبادت، دعا، مراقبہ یا خاموشی میں بیٹھنے سے ملتا ہے۔ یہ وہ سکون ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں کوئی ایسا مقصد تلاش کرنا جو دل کو مطمئن کرے، انسان کو دوبارہ جینے کی خواہش دیتا ہے۔ مقصد کی تلاش دل کے خلا کو آہستہ آہستہ بھر دیتی ہے۔

خود سے محبت بھی بہت ضروری ہے۔ خود سے محبت انسان کو اپنے دل کے قریب لاتی ہے۔ جب انسان اپنی قدر کرتا ہے، اپنے آپ کو وقت دیتا ہے اور اپنی کامیابیوں کو سراہتا ہے تو دل میں ایک نرمی پیدا ہوتی ہے جو خلا کو کم کرتی ہے۔

آج کے دور میں یہ خالی پن اور بھی بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے دکھاوے کی خوشی تو بڑھا دی ہے مگر اصل خوشی کہیں کھو گئی ہے۔ لوگ مسکراتے ہیں مگر دل کے اندر ایک خاموش اداسی چھپی ہوتی ہے۔ یہ اداسی اس وقت تک نہیں جاتی جب تک انسان سچائی، تعلق اور سکون کی طرف واپس نہیں آتا۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ دل کا خالی پن کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک اشارہ ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ انسان کو رک کر اپنے دل کی بات سننی چاہیے۔ شور کبھی بھی دل کو نہیں بھر سکتا۔ دل کو سکون چاہیے، محبت چاہیے اور وہ تعلق چاہیے جو روح کو چھو لے۔ جب انسان اپنے اندر کی آواز سنتا ہے تو وہ اس خلا کو بھرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیتا ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔