کیا آپ کبھی کسی پرسکون اور صاف رات کو باہر کھڑے ہوئے ہیں اور آپ نے ستاروں کی اس بھاری چادر کو دیکھ کر خود کو بالکل چھوٹا محسوس کیا ہے؟ یہ دنیا کے سب سے زیادہ عاجزی پیدا کرنے والے احساسات میں سے ایک ہے۔
لیکن اگر آپ کائنات کو جدید سائنس اور پرانی کہانیوں دونوں کی نظر سے دیکھیں تو آپ کو ایک بہت ہی خوبصورت بات معلوم ہوگی کہ جو اصول ستاروں اور کہکشاؤں کو اپنی جگہ پر قائم رکھتے ہیں، وہی اصول دراصل ہمارے لیے ایک انسان کے طور پر آگے بڑھنے کا خفیہ راستہ ہیں۔
اگر آپ ایک بھرپور زندگی جینا چاہتے ہیں تو یہ کائنات گویا خود آپ کو اشارے دے رہی ہے۔ یہ سب کچھ آپس میں کیسے جڑتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ ہم اصل میں کہاں ہیں
جب ہم دن کے وقت اوپر دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک نیلا آسمان نظر آتا ہے لیکن یہ صرف ہماری ہوا کی تہیں ہیں جو ایک نظر کا دھوکہ پیدا کرتی ہیں۔ جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ نیلی چھت غائب ہو جاتی ہے اور ہم سیدھا ایک اربوں سال پرانی کائنات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
وہاں باہر ہر چیز ایک بہت بڑی ترتیب میں رہتی ہے۔ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ سورج ہماری دودھیا کہکشاں کے اندر موجود چار سو ارب ستاروں میں سے صرف ایک ستارہ ہے۔ اور ہماری کہکشاں اس کائنات میں موجود کھربوں دوسری کہکشاؤں کے سمندر میں صرف ایک چھوٹا سا قطرہ ہے۔
اگرچہ خلا ان تمام چمکدار ستاروں سے بھری ہوئی ہے، پھر بھی یہ ہمیں بالکل کالی نظر آتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ خلا زیادہ تر خالی ہے، ایک ایسا اندھیرا جہاں روشنی کو ٹکرانے اور واپس پلٹنے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ ساتھ کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ دور ترین ستاروں کی روشنی کھینچ کر ہماری انسانی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
یہ ایک بہت بڑا، اندھیرا اور خوبصورت معمہ ہے۔ اور اس سب کے بالکل بیچ میں آپ موجود ہیں۔
وہ دو اصول جو کائنات کی ترتیب کو قائم رکھتے ہیں
کائنات اس لیے بکھرنے سے بچی ہوئی ہے کیونکہ یہ دو چیزوں کے خوبصورت توازن پر چلتی ہے، پہلا حرکت اور دوسرا کشش۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہر چیز بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت، اگرچہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ بالکل ساکت بیٹھے ہیں، زمین اپنی جگہ پر بہت تیز رفتار سے گھوم رہی ہے، وہ سورج کے گرد ایک لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے، اور ہماری پوری کہکشاں بیس لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گہری خلا میں سفر کر رہی ہے! یہاں تک کہ آپ کے جسم کے اندر کے چھوٹے ذرات بھی مسلسل ہل رہے ہیں۔ خلا میں اگر کوئی چیز رک جائے تو کھینچنے والی قوت جیت جائے گی اور وہ چیز تباہ ہو جائے گی۔ حرکت ہی وہ طریقہ ہے جس سے کائنات متوازن رہتی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر چیز دوسری چیز کی طرف کھینچی چلی جاتی ہے۔ وزن وزن کو کھینچتا ہے۔ سورج زمین کو کھینچتا ہے، زمین چاند کو کھینچتی ہے، اور آپ کے اپنے جسم کا بھی اپنے اردگرد کے لوگوں اور چیزوں پر ایک بہت ہی باریک اور پوشیدہ کھینچنے کا اثر ہوتا ہے۔
جب آپ آگے بڑھنے کی رفتار کو اس کھینچنے والی قوت کے ساتھ بالکل برابر کر لیتے ہیں تو ایک دائرے کا راستہ بنتا ہے۔ اس کے بعد وہ سیارہ نہ تو کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ ہی اندھیرے میں اکیلا بھاگتا ہے بلکہ وہ ایک بہترین اور مستقل ترتیب پا لیتا ہے۔
جب اصول بدل جاتے ہیں یعنی معجزات اور راستوں کا سکڑنا
لیکن کیا ہوتا ہے جب عام اصول کسی بڑی طاقت کے سامنے پیچھے رہ جاتے ہیں؟ آپ کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار کی وہ مشہور کہانی یاد ہوگی۔ ایک سچے دل اور کتاب کے علم کی برکت سے، ان کے ایک ساتھی نے ملکہ سبا کا بھاری تخت ہزاروں کلومیٹر دور سے صرف ایک پلک جھپکنے میں حاضر کر دیا۔
اگر آپ کسی مادی چیز کو عام طاقت کے ذریعے اتنی تیز رفتاری سے منتقل کرنے کی کوشش کریں تو وہ رفتار اسے باریک مٹی بنا دے گی۔ لیکن علم ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ یہ چیز جگہ کے سکڑنے کے تصور سے ممکن ہوتی ہے۔ فاصلوں پر دوڑنے کے بجائے، جگہ کو اس طرح سمیٹ دیا جاتا ہے کہ دو دور دراز کے مقامات فوری طور پر ایک دوسرے کو چھو لیتے ہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ علم، توجہ اور نیت کی گہری سطحیں ظاہری جسمانی طاقت سے کہیں زیادہ آگے کام کرتی ہیں۔
آپ کے روزمرہ کے چار اقدامات
تو ہم ان تمام گہری باتوں یعنی کہکشاؤں، دائروں کے راستوں، کشش اور معجزات کو اپنے پاس کیسے رکھ سکتے ہیں اور کل خود کو ایک بہتر انسان کیسے بنا سکتے ہیں؟ ہم ہر روز ان چار عادات کو اپنا سکتے ہیں۔
نمبر ایک، اپنی نیت کو درست رکھنا یعنی صبح کا آغاز: جس طرح اس ساتھی نے تخت کو جسمانی طاقت کے بجائے عاجزی اور سچے دل کی طاقت سے حاضر کیا، ہماری سچی طاقت بھی اسی وقت بڑھتی ہے جب ہم اپنے غرور کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر صبح ایک گہرا سانس لیں اور ایک پاکیزہ نیت کریں کہ میں آج کے دن کسی کے لیے کیسے واقعی مددگار یا مہربان بن سکتا ہوں؟ یہ نیت آپ کے دماغ کے شور کو صاف کرتی ہے اور آپ کو درست مواقع دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔
نمبر دو، اپنا اندرونی وزن بڑھانا : سائنس میں کوئی چیز جتنی بھاری ہوتی ہے، اس کی کھینچنے کی طاقت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں آپ کا وزن آپ کا کردار، آپ کی مہارتیں اور آپ کی ایمانداری ہے۔ روزانہ صرف بیس منٹ اپنے دماغ کو کچھ سکھانے میں گزاریں، کوئی اچھی کتاب پڑھیں، کسی مشکل کام کی مشق کریں یا کچھ نیا سیکھیں۔ جب آپ کے اندر سچی گہرائی ہوگی تو آپ ایک وزنی انسان بن جائیں گے۔ آپ چھوٹی موٹی باتوں اور جھگڑوں سے آسانی سے متاثر نہیں ہوں گے اور لوگ قدرتی طور پر آپ کے وجود کا احترام کریں گے۔
نمبر تین، اپنی حرکت کو جاری رکھنا یعنی روزمرہ کا توازن : یاد رکھیں کہ اگر کوئی سیارہ رک جائے تو وہ ستارے کے اندر گر کر جل جاتا ہے۔ سستی یا ضرورت سے زیادہ سوچنے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ روزانہ کا ایک فیصد کا اصول اپنائیں۔ کوئی بھی ایک چھوٹا سا کام جسے آپ ٹال رہے ہیں، جیسے ورزش کرنا، اپنا کمرہ صاف کرنا یا کوئی مشکل پیغام بھیجنا، اسے فوری طور پر کر ڈالیں۔ اپنے آپ کو مسلسل اور مثبت حرکت میں رکھنا آپ کی زندگی کو بہترین توازن میں رکھتا ہے۔
نمبر چار، اپنی کشش کو بیدار کرنا یعنی شام کی توانائی: ہمارے دماغ اور دل سے ہر روز بہت ہی باریک برقی لہریں نکلتی ہیں۔ اگرچہ آپ کسی جادوگر کی طرح چیزیں نہیں اٹھا سکیں گے، لیکن آپ کا رویہ ایک بہت ہی حقیقی انسانی کشش پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ ہر وقت شکایتیں اور منفی باتیں پھیلائیں گے تو آپ اچھے مواقع کو اپنے سے دور دھکیل دیں گے۔ اگر آپ سمجھداری سے شکر گزاری اور مہربانی کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کا اثر بدل جاتا ہے۔ آپ لوگوں کے لیے ایک پسندیدہ انسان بن جاتے ہیں اور مثبت لوگ اور اچھے مواقع قدرتی طور پر آپ کے دائرے میں آنے لگتے ہیں۔
آپ دنیا کو گزرتے ہوئے دیکھنے والے کوئی فالتو تماشائی نہیں ہیں۔ آپ اسی کائنات کا ایک زندہ حصہ ہیں جس کے قوانین پر یہ سب کچھ چل رہا ہے۔ اچھی نیتوں کو تھام کر، اپنے اندرونی کردار کو مضبوط کر کے، اپنی حرکت کو جاری رکھ کر اور مثبت توانائی پھیلا کر، آپ خود کو اس پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں اور اپنی سچی طاقت کو پا لیتے ہیں۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

