سب سے پہلی بات یہ ہے کہ چار سے پانچ سال کے بچے کو آپ نے اسکرین سے بالکل دور رکھنا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب بڑے بہن بھائی کارٹون یا کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اُن کے ساتھ چھوٹے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ سب سے بہتر تو یہ ہی ہے کہ اگر بڑے بچوں نے دیکھنا بھی ہو تو چھوٹوں کی غیر موجودگی میں دیکھیں۔ اگر ایسی صورتحال نہ بن پائے تو وقت محدود کر دیں، جس کی حد دس سے پندرہ منٹ ہونی چاہیے۔ اگر مواد اچھا ہو تو تین سے چار سال کا بچہ بھی تھوڑی دیر کے لیے دیکھ سکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بچوں کو اسکرین سے بالکل ہی دور کر دینا، احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا اور بے جا سختی کرنا بھی غلط ہے۔ اگر مواد اچھا ہو، جس سے بچے سیکھ بھی رہے ہوں اور لطف اندوز (انٹرٹین) بھی ہو رہے ہوں، تو روزانہ دس سے پندرہ منٹ یا صرف چھٹی والے دن دیکھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب بچہ سارا سارا دن اسکرین دیکھتا رہتا ہے اور فضول و بدتمیزی پر مبنی کنٹنٹ دیکھتا ہے۔ بچوں کو سب سے زیادہ دو چیزیں خراب کرتی ہیں: ایک بُرا دوست اور دوسرے بُرے کارٹونز۔
تیسری بات: بچے کا وقت محدود کر دیا گیا، چاہے وہ ویک اینڈ پر دس منٹ ہوں یا روزانہ کے دس منٹ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچہ دیکھے گا کیا؟ سب سے اچھے کارٹون ‘کنیز فاطمہ’ اور ‘غلام رسول’ ہیں، اس کے علاوہ بھی کچھ اچھے کارٹونز موجود ہیں جن کا آپ خود دیکھ کر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اُن کو ڈاؤن لوڈ کریں اور انٹرنیٹ آف کر کے بچوں کو دیں۔ اس طرح بچہ اچھا سیکھے گا بھی اور لطف اندوز بھی ہوگا۔
چوتھی بات جو میرے لیے انتہائی قابلِ افسوس ہے، وہ یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے سارا سارا دن موبائل فون دیکھ رہے ہیں اور انٹرنیٹ آن ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ جو مرضی آئے، دیکھے جا رہے ہیں۔ ماں نے فون دے دیا اور خود لاعلم ہو گئی۔ شاید اُن کو اندازہ نہیں ہے کہ آج کے کارٹون چلتی پھرتی عشق کی داستان بن چکے ہیں۔ ہر کارٹون میں شادی اور بچے دکھائے جا رہے ہیں جو بچوں میں غلط عادات ڈال رہے ہیں۔ میں نے کچھ ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جن کی پانچ چھ سال کی بچیاں ٹک ٹاک کی ریلز دیکھنے کی عادی ہو چکی ہیں اور ہر وقت میک اپ اور ڈانس کی باتیں ہی کرتی رہتی ہیں۔
کوئی بھی چیز بذاتِ خود اچھی یا بُری نہیں ہوتی، بلکہ اس کا استعمال اُسے اچھا یا بُرا بناتا ہے۔ بدقسمتی سے، اے آئی اور کارٹونز کے ذریعے کچھ برے لوگ فحاشی بھی پھیلا رہے ہیں۔ جو والدین آج کے اس فتنہ پرور دور میں اپنے بچوں کو بُری صحبت، بُرے ماحول اور نقصان دہ کنٹنٹ سے بچانے میں کامیاب ہو گئے، وہ واقعی کامیاب ہیں۔ اب تو دس دس سال کے بچے فحش مواد دیکھتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں اُن کو کسی دوست نے بتایا تھا کہ ‘یہ لکھو تو یہ چیز آئے گی’۔ خدارا اپنی آنکھیں کھولیں اور بربادی سے پہلے بچوں کو بچائیں۔
بچوں پر کڑی نگرانی رکھیں، انہیں بہت محبت دیں، اور ڈرانے کے بجائے دوستی والا ماحول فراہم کریں تاکہ وہ ہر بات آپ کو خود بتائیں؛ اور اس کے ساتھ ساتھ اُن کے دوستوں پر بھی گہری نظر رکھیں۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

