ایک چھوٹے سے شہر میں دو دوست رہتے تھے، عاصم اور دانیال۔ دونوں نے ایک ہی کالج سے پڑھائی کی اور ایک ہی ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ شروع میں دونوں نے بہت محنت کی، لیکن بدقسمتی سے پہلے ہی سال مارکیٹ کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے دونوں کا کاروبار بری طرح ڈوب گیا۔
عاصم نے سر پکڑ لیا، مایوس ہوا اور کہنے لگا، "میری تو قسمت ہی خراب ہے۔ بزنس کرنا میرے بس کی بات ہی نہیں، شاید مجھ میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے جو ایک کامیاب بزنس مین میں ہونی چاہیے۔” اس نے ہار مان لی اور ایک عام سی نوکری کر لی۔ دوسری طرف دانیال بھی پریشان تھا، لیکن اس کی سوچ الگ تھی۔ اس نے خود سے کہا، "کاروبار ڈوب گیا تو کیا ہوا، مجھے یہ تو سمجھ آ گیا کہ کون سی غلطیاں نہیں کرنی۔ یہ نقصان میری نالائقی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے تاکہ میں اگلی بار بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں اتروں۔” دانیال نے نئے جذبے سے دوبارہ کام شروع کیا اور چند ہی سالوں میں ایک کامیاب کمپنی کھڑی کر دی۔
اب یہاں ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں: دونوں کے حالات ایک جیسے تھے، دونوں پر ایک جیسی مصیبت آئی، پھر ایک ناکام اور دوسرا کامیاب کیوں ہوا؟ اس کا سادہ سا جواب ہے، مائنڈ سیٹ یعنی ان کی سوچ کا انداز۔
یہ مائنڈ سیٹ آخر ہے کیا بلا؟
اگر آسان زبان میں بات کریں تو مائنڈ سیٹ ہمارے دماغ کا وہ فلٹر یا چشمہ ہے جس سے ہم دنیا کو دیکھتے ہیں۔ جیسے اگر آپ پیلے رنگ کا چشمہ پہنیں گے تو آپ کو سب کچھ پیلا نظر آئے گا، بالکل ویسے ہی اگر آپ کا مائنڈ سیٹ جیسا ہوگا، آپ کو اپنی زندگی اور حالات بھی ویسے ہی دکھائی دیں گے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ہم انسانوں کے پاس عام طور پر دو طرح کے چشمے (مائنڈ سیٹ) ہوتے ہیں
بند یا فکسڈ مائنڈ سیٹ: یہ عاصم والی سوچ ہے۔ ایسے لوگ مانتے ہیں کہ انسان کی ذہانت اور ٹیلنٹ پیدائشی ہوتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر میں کسی کام میں پہلی بار فیل ہو گیا، تو اس کا مطلب ہے میں وہ کام کبھی نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ چیلنجز سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ناکامی سے ان کی بے عزتی ہو جائے گی۔
کھلا یا گروتھ مائنڈ سیٹ: یہ دانیال والی سوچ ہے۔ اس ذہنیت کے لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی کام سیکھا جا سکتا ہے۔ اگر آج مجھے کوئی چیز نہیں آتی، تو میں محنت اور پریکٹس سے اسے بہتر بنا سکتا ہوں۔ ان کے لیے ناکامی کا مطلب فل اسٹاپ نہیں ہوتا، بلکہ ایک نیا راستہ ہوتا ہے۔
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مائنڈ سیٹ کو اتنی اہمیت کیوں دیں؟
ذرا سوچیں، جب صبح اٹھتے ہی ہمارا موڈ خراب ہو، تو پورا دن کیسا گزرتا ہے؟ چڑچڑا اور بوجھل نا؟ مائنڈ سیٹ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، لیکن یہ صرف ایک دن کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے کام کرتا ہے۔
رکاوٹیں اب پہاڑ نہیں لگتیں: زندگی تو فلم کی طرح ہے، اس میں ٹوئسٹ اور ڈرامے آتے رہتے ہیں۔ جب آپ کا مائنڈ سیٹ لچکدار ہوتا ہے، تو آپ کسی مشکل کے آنے پر یہ نہیں روتے کہ "میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟” بلکہ آپ سوچتے ہیں کہ "اب اس کا حل کیا نکالنا ہے؟”
لوگوں کے ساتھ رشتے خوبصورت ہوتے ہیں: جب ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہر انسان بدل سکتا ہے اور سیکھ سکتا ہے، تو ہم اپنے دوستوں، گھر والوں اور پارٹنر کے ساتھ زیادہ نرمی سے پیش آتے ہیں۔ ہم ضد اور انا کو چھوڑ کر سامنے والے کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دماغی سکون ملتا ہے: جب آپ خود کو ہر وقت دوسروں سے کمپیئر کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور صرف اس بات پر فوکس کرتے ہیں کہ "میں کل سے بہتر کیسے بنوں”، تو ذہنی تناؤ اور ڈپریشن خود بخود غائب ہو جاتا ہے۔
اپنی سوچ کا چشمہ کیسے بدلیں؟
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا مائنڈ سیٹ بھی عاصم جیسا ہو رہا ہے، تو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ دماغ ایک مسل کی طرح ہے، اسے جیسے ٹرین کریں گے، یہ ویسا ہی بن جائے گا۔ آپ یہ چند چھوٹی تبدیلیاں کر سکتے ہیں
"مجھ سے نہیں ہوگا” کو بدلیں: جب بھی کوئی نیا یا مشکل کام سامنے آئے، تو یہ کہنے کے بجائے کہ "میں یہ نہیں کر سکتا”، مسکرا کر خود سے کہیں "مجھے ابھی یہ کام نہیں آتا، لیکن میں سیکھ لوں گا”۔ لفظ "ابھی” میں بہت بڑی جادوئی طاقت ہے۔
غلطیوں سے پیار کریں: غلطیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ کوشش کر رہے ہیں۔ جو کچھ نہیں کرتے، ان سے کوئی غلطی بھی نہیں ہوتی۔
واہ واہ کے پیچھے نہ بھاگیں: کام اس لیے کریں تاکہ آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو ملے، اس لیے نہیں کہ لوگ تالیاں بجائیں۔
چلتے چلتے ایک آخری بات
آپ کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑی ہو، لیکن اگر اس کا اسٹیئرنگ غلط سمت میں گھوم جائے تو حادثہ پکا ہے۔ ہمارا مائنڈ سیٹ ہماری زندگی کا وہی اسٹیئرنگ ہے۔ اگر سوچ مثبت اور آگے بڑھنے والی ہوگی، تو راستے کتنے ہی پتھریلے کیوں نہ ہوں، آپ اپنی منزل تک پہنچ ہی جائیں گے۔ تو پھر، آج سے آپ کون سا چشمہ پہننے والے ہیں؟
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔