حوصلہ افزائی

کسی کی تکلیف دہ بات کو کیسے برداشت کریں؟

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ کبھی کبھی کسی کی کوئی بات دل میں تیر کی طرح ترازو ہو جاتی ہے، تو یقین مانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم سب انسان ہیں اور زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ہمیں ایسے تلخ رویوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ جب کوئی اپنا یا غیر کچھ ایسا کہہ دے جو دل کو دکھا جائے، تو فوراً غصہ آنا یا دل ٹوٹ جانا بالکل قدرتی بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس دکھ کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیں یا اس سے نکلنے کا کوئی خوبصورت راستہ نکالیں؟

سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی آپ کو کچھ تلخ کہے، فوراً جواب دینے کے بجائے چند سیکنڈ کی خاموشی اختیار کریں۔ جب ہم جذبات میں آ کر فوراً بولتے ہیں تو اکثر بات سنبھلنے کے بجائے اور بگڑ جاتی ہے۔ ذرا سی دیر کے لیے لمبی سانس لیں اور خود کو یاد دلائیں کہ آپ کو اپنا سکون کسی دوسرے کے ایک جملے کے لیے برباد نہیں کرنا۔

کبھی کبھی یہ سوچنا بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے کہ سامنے والے نے شاید یہ بات آپ کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی کسی اندرونی پریشانی یا ناکامی کے غصے میں کہی ہے۔ جب لوگ اندر سے بے سکون یا پریشان ہوتے ہیں تو اکثر ان کا غصہ دوسروں پر نکلتا ہے۔ جب آپ یہ بات سمجھ جاتے ہیں، تو آپ کو ان کی بات پر غصہ آنے کے بجائے ان کے حال پر تھوڑا ترس آنے لگتا ہے۔

کسی کی تکلیف دہ بات کو بار بار ذہن میں دہرانا دراصل اپنے ہی زخم کو بار بار کریدنے جیسا ہے۔ جب بھی وہ بات یاد آئے، اپنی توجہ فوراً کسی ایسی چیز کی طرف موڑ دیں جو آپ کو خوشی دیتی ہو، چاہے وہ دوست سے بات کرنا ہو، چائے کا ایک کپ پینا ہو، یا اپنا کوئی پسندیدہ کام کرنا ہو۔

آخر میں، درگزر کرنا اور معاف کر دینا سامنے والے سے زیادہ آپ کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے اس کا غلط رویہ قبول کر لیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کی وجہ سے اپنے دل کا سکون برباد کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اپنے اردگرد ایک مثبت اور باوقار حد قائم رکھیں تاکہ کسی کی منفی سوچ آپ کی اندرونی شانتی کو خراب نہ کر سکے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔