حوصلہ افزائی

بڑی تیاریاں اور پوشیدہ خطرے

جنگل کا سفر کبھی اندھا دھند نہیں ہوتا، خاص طور پر جب آپ کا ارادہ ہاتھی کے دانت لے کر آنے کا ہو۔ اس شخص نے مہینوں تیاری کی تھی۔ اس کے پاس موٹے چمڑے کے دستانے اور بھاری جوتے تھے۔ اس نے سانپوں، زہریلے کیڑوں اور جنگلی درندوں سے نمٹنے کے لیے ہر قسم کا سامان جمع کر رکھا تھا۔ اس کے پاس ایک بڑی رائفل تھی اور سانپ کے زہر کا تریاق بھی، تاکہ کاٹ لینے کی صورت میں جان بچائی جا سکے۔ وہ جانتا تھا کہ ہاتھی کے قریب جانا کتنا خطرناک ہے، اس لیے اس نے حملے کا وقت، ہوا کا رخ اور پسپائی کا راستہ سب کچھ پہلے سے طے کر رکھا تھا۔

وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے وہ دانت حاصل کر لیے جن کے لیے اس نے یہ سارا کھیل رچایا تھا۔ وہ خوش تھا اور اسی خوشی میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ جنگل کا ایک خاموش حصہ پار کرتے ہوئے اس نے بھاری جوتے اتارے تاکہ پاؤں کو کچھ سکون مل سکے۔ اس نے اپنا بیگ کھولا، مگر بس اتنی سی دیر میں ایک چھوٹا سا بچھو، جو جوتے کے اندر چھپا بیٹھا تھا، اس کے پاؤں پر چڑھا اور اسے ڈس لیا۔ اس کے پاس سانپ کے کاٹے کا علاج تو موجود تھا، مگر بچھو کا نہیں! اس نے ساری تیاری بڑی چیزوں کے لیے کی تھی، اور وہ ایک ایسی چیز سے ہار گیا جو اس کے حساب کتاب میں تھی ہی نہیں۔

یہ بدقسمتی سے زیادہ ‘نظر’ کا مسئلہ تھا۔ اس شخص کے پاس تیاری کی کمی نہیں تھی، دیکھنے کی کمی تھی۔ اس نے صرف ان خطروں کو گنا جو بڑے تھے اور شور مچاتے تھے: ہاتھی، سانپ اور درندے۔ جو چھوٹا اور خاموش تھا، وہ اس کی فہرست میں آ ہی نہ سکا۔

میرا خیال ہے کہ ہم سب اپنی زندگی میں یہی کرتے ہیں۔ ہم خطرے کا اندازہ بھی جسامت اور شور سے لگاتے ہیں، اور عزت کا بھی۔ ہم کس سے ڈرتے ہیں اور کس کی عزت کرتے ہیں؟

انسان کی ایک پرانی عادت ہے کہ اپنے مفاد کے لیے اسے بھی مٹا دیتا ہے جو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا رہا ہوتا۔ درخت ہمیں سایہ دیتا ہے، ہم اسے کاٹ دیتے ہیں۔ دریا ہمیں راستہ دیتا ہے، ہم اس میں زہر گھول دیتے ہیں۔ اب ذرا گدھے کو دیکھیں۔ وہ انسان کا بوجھ اٹھاتا ہے، پتھر اور اینٹیں ڈھوتا ہے اور ساری زندگی ایک بوجھل سفر طے کرتا ہے؛ مگر اس کے ساتھ ہمارا رویہ دیکھیے۔ ہم اسے "گدھا” کہہ کر گالی دیتے ہیں، اس کی آواز کا مذاق اڑاتے ہیں، اور اس کی سادگی اور محنت کو اس کی بیوقوفی سمجھتے ہیں۔ جو ہمارے لیے سب سے زیادہ کام کرتا ہے، ہماری سب سے بڑی بے عزتی کا نشان وہی بنتا ہے۔

دوسری طرف شیر ہے، جنگل کا بادشاہ۔ وہ شکار کرتا ہے، اور اس کی ہمت اور طاقت اسے انسان کے لیے ایک مستقل خطرہ بناتی ہے۔ لیکن ہم اسے کیا کہتے ہیں؟ بہادر! ہم اسے اپنے پرچموں پر سجاتے ہیں، اس کے نام کے القابات لکھتے ہیں۔ ہم اس سے ڈرتے ہیں، اور بالکل اسی خوف کی وجہ سے اس کی عزت کرتے ہیں۔

یہاں ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری تعریف کس کے لیے ہے؟ ان کے لیے جو ہمیں بچاتے ہیں، یا ان کے لیے جو ہمیں ڈراتے ہیں؟ روزمرہ زندگی میں مجھے اکثر یہی رویہ نظر آتا ہے۔ ہم اس شخص سے ڈرتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے، اور اسی ڈر کی وجہ سے اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔ لیکن جو شخص ہمارے لیے سب کچھ کرتا ہے، اسے ہم ہلکا سمجھتے ہیں۔ گھر کے کام کرنے والے، دفتر کے وہ ملازم جو سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں مگر سب سے کم بولتے ہیں، اور رشتوں میں وہ لوگ جو سارے سمجھوتے کرتے ہیں، یہ سب ہماری نظر میں "گدھے” کہلاتے ہیں۔ ہم ان کی خدمات کا معاوضہ تو دے دیتے ہیں، مگر انہیں وقار نہیں دیتے۔ دوسری طرف جو لوگ دھمکا کر اپنا کام نکلواتے ہیں، جو اخلاقیات کے بجائے طاقت کے زور پر کھڑے ہوتے ہیں، وہ اکثر ہمارے "شیر” کہلاتے ہیں۔ ہم ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر انہیں شاباش بھی دیتے ہیں۔

اب دوبارہ بچھو کی طرف لوٹتے ہیں۔ گدھا بھی خاموش ہے اور بچھو بھی۔ ایک ہمارا بوجھ اٹھاتا ہے، دوسرا ہماری جان لے سکتا ہے، اور ہم دونوں ہی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ بات صرف جنگل کی نہیں ہے۔ زندگی کی بڑی تباہیاں اکثر کسی بڑے طوفان سے نہیں آتیں۔ وہ کسی ایسے معمولی جملے سے آتی ہیں جو ہم نے غصے میں کہہ دیا ہو۔ وہ کسی ایسی لت سے آتی ہیں جسے ہم نے "بس ایسے ہی” کہہ کر شروع کیا ہو ۔ وہ کسی ایسی چھوٹی سی سستی سے آتی ہیں جسے ہم نے اپنے روزمرہ کے معمول میں شامل کر لیا ہو۔ ہماری پوری منصوبہ بندی اور ہمارے بڑے بڑے خواب، ایک چھوٹے سے بچھو جیسی عادت کے سامنے بے بس ہو سکتے ہیں۔

تیاری غلط نہیں ہوتی، مگر تیاری کی فہرست وہی بناتا ہے جو خطرے کو جسامت اور شور سے ناپتا ہے، اور بچھو اس فہرست میں کبھی شامل نہیں ہو پاتا۔ انسان جنگل کا مالک نہیں، صرف ایک مہمان ہے؛ اور یاد رکھیے، کبھی کبھی ایک بچھو ہی کافی ہوتا ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔ 

Avatar

لاہور سے 23 سالہ لکھاری۔ میرا ماننا ہے کہ سچائی کو کسی سجاوٹ کی ضرورت نہیں۔ میرا قلم صرف ان حقائق کو بیان کرتا ہے جو ہم روز دیکھتے ہیں۔ اور جہاں تک زندگی کا تعلق ہے، میرا سادہ حساب ہے: "گرنا کوئی نئی بات نہیں، مگر اگر آپ ہر بار اٹھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، تو آپ نے اس کھیل میں ہار مان لی ہے۔" میں ان نوجوانوں کی بات کرتا ہوں جن کی جیب خالی ہو مگر ان کے سر میں دنیا کو بدلنے کا خیال ہو۔