رہنمائی

کیوں لوگ ہنستے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں کچھ بُرا نہ ہو جائے

انسان جب ہنستا ہے تو اس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہے اور دل میں ایک نرم سی روشنی۔ مگر اسی روشنی کے ساتھ کبھی کبھی ایک دھیمی سی لرزش بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دل کہہ رہا ہو کہ یہ خوشی کہیں زیادہ دیر نہ ٹھہرے۔ یہ احساس بہت عام ہے اور انسان کی فطرت میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ خوشی کے لمحے میں پیدا ہونے والا یہ ڈر دراصل انسان کے اندر موجود اس کیفیت سے جڑا ہوتا ہے جسے خوشی کے ساتھ خوف کہا جا سکتا ہے۔

بہت سے لوگوں کے دل میں یہ ڈر ان کے ماضی کے تجربات سے جنم لیتا ہے۔ اگر کسی نے زندگی میں ایسے دن دیکھے ہوں جہاں مسکراہٹ کے فوراً بعد کوئی دکھ سامنے آ گیا ہو تو دماغ اس نقش کو کبھی نہیں بھولتا۔ پھر جب بھی وہ شخص ہنستا ہے تو دل کے کسی کونے میں وہی پرانی یاد جاگ اٹھتی ہے۔ انسان چاہے جتنا مضبوط ہو جائے، ماضی کے کچھ لمس ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہی لمس کبھی کبھی خوشی کے بیچ بھی ایک ہلکی سی بے چینی پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لئے انسان کو اپنے گزشتہ اثرات پر نظر ڈالنی پڑتی ہے۔

ہمارا معاشرہ بھی اس احساس کو بڑھاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ بہت زیادہ ہنسو گے تو رونا پڑے گا۔ یہ جملہ مذاق میں کہا جاتا ہے مگر ذہن اسے حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ پھر جب انسان ہنستا ہے تو اسے لگتا ہے کہ شاید یہ لمحہ کسی آزمائش سے پہلے کا وقفہ ہے۔ یہ سوچ انسان کو پوری طرح خوش ہونے نہیں دیتی۔ معاشرتی تربیت کا یہ پہلو بہت گہرا ہے اور اکثر لوگ اسے محسوس کیے بغیر اپنے اندر لئے پھرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ خوشی کے لمحے میں بھی محتاط رہتے ہیں اور دل میں ایک انجانا سا خدشہ رکھتے ہیں جو سماجی اثرات سے جڑا ہوتا ہے۔

کچھ لوگ فطری طور پر زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ وہ ہر جذبے کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کے لئے خوشی بھی گہری ہوتی ہے اور خوف بھی۔ جب وہ ہنستے ہیں تو ان کے دل میں ایک نرم سا خدشہ بھی ساتھ چلتا ہے کہ کہیں یہ لمحہ ٹوٹ نہ جائے۔ یہ حساسیت ان کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہے اور اسے سمجھ کر ہی انسان اپنے جذبات کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا کو زیادہ گہرائی سے دیکھتے ہیں اور ان کے دل میں جذباتی حساسیت کا رنگ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

بعض اوقات انسان کی خود اعتمادی بھی اس کیفیت میں کردار ادا کرتی ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خوشی کے قابل نہیں یا خوشی ان کے لئے زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ سوچ انہیں ہر خوشی کے لمحے میں محتاط کر دیتی ہے۔ وہ ہنستے ہیں مگر دل میں ایک ہلکی سی بے چینی موجود رہتی ہے۔ یہ کیفیت ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جنہوں نے زندگی میں مسلسل مشکلات کا سامنا کیا ہو۔ ان کے دل میں یہ خیال بیٹھ جاتا ہے کہ خوشی ہمیشہ عارضی ہوتی ہے۔ یہی سوچ انہیں اپنی خود اعتمادی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

انسانی دماغ کا ایک قدرتی نظام بھی اس کیفیت میں شامل ہوتا ہے۔ دماغ کا بنیادی مقصد انسان کو محفوظ رکھنا ہے۔ جب انسان بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو دماغ کو لگتا ہے کہ وہ جذباتی طور پر بہت اوپر جا رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے لئے تیار نہیں۔ اس لئے دماغ ایک ہلکا سا خوف پیدا کرتا ہے تاکہ انسان محتاط رہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور ہر انسان میں مختلف شدت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ دماغ کا یہ حفاظتی عمل انسان کو زندگی کے اتار چڑھاؤ کے لئے تیار رکھتا ہے اور اسے دماغی توازن کا احساس دلاتا ہے۔

زندگی کی غیر یقینی بھی اس کیفیت کو بڑھاتی ہے۔ انسان جانتا ہے کہ زندگی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ خوشی اور غم دونوں آتے جاتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ اس غیر یقینی کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ جب وہ ہنستے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ شاید یہ لمحہ عارضی ہے اور جلد ہی کوئی مشکل سامنے آ سکتی ہے۔ یہی سوچ انہیں مکمل طور پر خوش ہونے سے روکتی ہے۔ یہ احساس انسان کو زندگی کے بدلتے رنگوں کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔

کچھ لوگوں کے لئے یہ کیفیت روحانی تربیت سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بہت زیادہ خوشی انسان کو غفلت میں ڈال دیتی ہے اور پھر کوئی آزمائش آ جاتی ہے۔ اگرچہ اس سوچ میں حکمت موجود ہے مگر بعض اوقات یہ غیر ضروری خوف بھی پیدا کر دیتی ہے۔ انسان کو خوشی اور احتیاط دونوں کے درمیان توازن رکھنا چاہئے۔ روحانی تربیت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ خوشی بھی نعمت ہے اور آزمائش بھی زندگی کا حصہ۔ یہی سوچ انسان کو روحانی پہلو کی طرف مائل کرتی ہے۔

اگر آپ بھی ہنستے ہوئے دل میں خوف محسوس کرتے ہیں تو سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ یہ ایک عام انسانی کیفیت ہے۔ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اپنے ماضی کے تجربات کو سمجھیں، مثبت سوچ اپنائیں، اور اپنے دل کو یہ سکھائیں کہ خوشی بھی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کو خوشی سے بھاگنے کے بجائے اسے قبول کرنا چاہئے۔ اپنے دل کو یہ یقین دلائیں کہ خوشی کوئی خطرہ نہیں بلکہ زندگی کی خوبصورتی ہے۔ اس یقین کے ساتھ انسان آہستہ آہستہ اپنے خوف پر قابو پا لیتا ہے اور زندگی کے روشن لمحوں کو کھل کر محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ سفر انسان کو اندرونی سکون کی طرف لے جاتا ہے۔

توجہ فرمائیے

 ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ  حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔