انسانی ذہن کی ایک عجیب سی عادت ہے کہ وہ کسی بھی نئی بات یا نئی صورتحال کو دیکھتے ہی پہلے منفی رخ پر سوچتا ہے۔ جیسے ہی کوئی اچھی خبر ملتی ہے تو دل کے کسی کونے میں فوراً یہ خیال جاگ اٹھتا ہے کہ شاید یہ سچ نہ ہو یا شاید اس کے پیچھے کوئی مسئلہ چھپا ہو۔ یہ رویہ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر انسان میں کسی نہ کسی درجے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کی جڑیں ہماری نفسیات، تجربات اور ماحول میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔
جب ہم کسی اچھی چیز کا سامنا کرتے ہیں تو دماغ فوراً اس کے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ یہ دماغ کا اپنا حفاظتی نظام ہے جو ہمیں نقصان سے بچانے کے لئے ہمیشہ چوکس رہتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں یہ صلاحیت زندگی اور موت کا فرق تھی۔ آج اگرچہ حالات بدل چکے ہیں مگر ذہن اب بھی اسی پرانے اصول پر چلتا ہے اور ہر نئی چیز کو پہلے خطرے کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ اسی رجحان کو ماہرین منفی تعصب کہتے ہیں۔
زندگی کے تجربات بھی ہماری سوچ کو گہرا رنگ دیتے ہیں۔ اگر کسی نے ماضی میں دھوکہ کھایا ہو یا کسی مشکل سے گزرا ہو تو وہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے نتائج کی توقع کرتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اچھا سوچیں مگر ذہن فوراً یاد دلاتا ہے کہ پہلے بھی ایسا ہوا تھا اور نتیجہ اچھا نہیں نکلا تھا۔ یہی توقعاتی خوف ہمیں مثبت سوچ سے دور رکھتا ہے۔
معاشرتی ماحول بھی اس رویے کو بڑھا دیتا ہے۔ ہم روزانہ خبروں، سوشل میڈیا اور لوگوں کی گفتگو میں زیادہ تر منفی باتیں سنتے ہیں۔ مثبت خبریں کم دکھائی دیتی ہیں۔ جب ذہن مسلسل منفی معلومات سے بھرا رہے تو وہ مثبت امکانات کو کمزور سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھی بات بھی سن کر دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہے کہ کہیں یہ بھی دھوکہ نہ ہو۔
خود اعتمادی کی کمی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب انسان خود کو کمزور یا ناکام سمجھنے لگتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ اچھی چیزیں اس کی زندگی میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتیں۔ وہ پہلے ہی منفی سوچ کر خود کو ذہنی طور پر تیار رکھتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ اگر وہ خوش ہو گئے تو شاید اگلے ہی لمحے کوئی مسئلہ سامنے آ جائے گا۔ یہی کیفیت خود اعتمادی کی کمی کہلاتی ہے۔
ناکامی کا خوف بھی انسان کو مثبت سوچنے سے روکتا ہے۔ جب دل میں یہ ڈر بیٹھ جائے کہ کہیں کوشش ناکام نہ ہو جائے تو انسان پہلے ہی منفی نتیجہ سوچ لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر وہ پہلے سے تیار رہے گا تو دکھ کم ہو گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ خوف انسان کو آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے اور وہ بہت سے مواقع کھو دیتا ہے۔
مثبت سوچ پر یقین کرنا اس لئے بھی مشکل لگتا ہے کہ اس کے لئے ہمت، امید اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ منفی سوچنے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثبت سوچ انسان کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے جبکہ منفی سوچ اسے وہیں روک دیتی ہے۔ اسی لئے دماغ آسان راستہ اختیار کرتا ہے اور منفی سوچ کو ترجیح دیتا ہے۔
اگرچہ یہ رجحان فطری ہے مگر ہم اسے کم کر سکتے ہیں۔ روزانہ کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی مثبت چیزوں پر توجہ دینا بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ شکر گزاری کی عادت ذہن کو مثبت رخ پر لاتی ہے۔ مثبت لوگوں کی صحبت بھی سوچ کو روشن کرتی ہے۔ جب ہم ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جو امید اور حوصلے سے بھرپور ہوں تو ہمارا ذہن بھی اسی سمت میں چلنے لگتا ہے۔ اسی طرح منفی خیالات کو چیلنج کرنا بھی ضروری ہے۔ جب کوئی منفی خیال آئے تو خود سے پوچھیں کہ کیا یہ حقیقت ہے یا صرف خوف۔
وقت کے ساتھ انسان سیکھ جاتا ہے کہ ہر اچھی چیز کے پیچھے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ زندگی میں خوشی، کامیابی اور سکون بھی اتنے ہی حقیقی ہیں جتنے مسائل اور مشکلات۔ اگر ہم اپنے ذہن کو مثبت امکانات دیکھنے کی تربیت دیں تو آہستہ آہستہ یہ عادت مضبوط ہو جاتی ہے۔ پھر اچھی خبر سن کر دل میں خوف نہیں بلکہ امید جاگتی ہے۔
توجہ فرمائیے
ٹیم شاباش کا لکھاری کے خیالات اور تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو اس تحریر بارے کوئی شکایت ہو ، کسی بیان کردہ حقائق کی درستگی کرنا چاہتے ہوں تو ٹیم شاباش سےرابطہ کریں۔

